Home/Mustafa Raza Khan Qadri/Kya Kahoon Kaise Hain Pyare Tere Pyare Gaisu

Kya Kahoon Kaise Hain Pyare Tere Pyare Gaisu

Written by Mustafa Raza Khan Qadri

100%
کیا کہوں کیسے ہیں پیارے تیرے پیارے گیسو دونوں عارض ہیں ضحیٰ لیل کے پارے گیسو دستِ قدرت نے ترے آپ سنوارے گیسو حور سو ناز سے کیوں ان پہ نہ وارے گیسو خاکِ طیبہ سے اگر کوئی نکھارے گیسو سُنبلِ خُلد تو کیا حور بھی ہارے گیسو سُنبلِ طیبہ کو دیکھے جو سنوارے گیسو سُنبلِ خُلد کے رضواں بھی نھارے گیسو کس لیے عنبرِ سارا نہ ہوں سارے گیسو گیسو کس کے ہیں یہ پیارے ہیں تمہارے گیسو ہوں نہ کیوں رحمتِ حق حق میں ہمارے گیسو گیسو اے جانِ کرم ہیں یہ تمہارے گیسو یہ گھٹا جھوم کے کعبہ کی فضا پر آئی اڑ کے یا ابرو پہ چھائے ہیں تمہارے گیسو ماہِ تاباں پہ ہیں رحمت کی گھٹائیں چھائیں روئے پُرنور پہ یا چھائے تمہارے گیسو سر بسجدہ ہوئے محرابِ خُمِ ابرو میں کعبہِ جاں کے جو آئے ہیں کنارے گیسو نَیّرِ حشر ہے سر پر نہیں سایہ سرور ہے کھڑی دھوپ کریں سایہ تمہارے گیسو سوکھ جائے نہ کہیں کِشتِ امل اے سرور بوندیاں لُطفِ رحمت سے اتارے گیسو اپنی زلفوں سے اگر نعلِ مبارک پونچھے رضواں برکت کے لیے حور کے دھارے گیسو گرد جھاڑی ہے ترے روضہ کی بالوں سے شہا مُشک بو کیسے نہ ہوں آج ہمارے گیسو اب چمکتی ہے سیہ کارو تمہاری قسمت لو جھکے اذن کے سجدے کو وہ پیارے گیسو پیش مولائے رضا جو ہیں جھکے سجدے میں کرتے ہیں بخششِ اُمت کے اشارے گیسو پھوار مستوں پہ ترے ابرِ کرم کی برسے ساقیا کھول ذرا حوض کنارے گیسو سایہ بھی چاہیے ہے مستوں کو دو چھینٹے میں کاش ساقی کے کھلیں حوض کنارے گیسو عبرستاں بنے محشر کا وہ میداں سارا کھول دے ساقی اگر حوض کنارے گیسو بادہ و ساقی لب جو تو ہیں پھر ابر بھی ہو ساقی گھل جائیں ترے حوض کنارے گیسو یہ سرِ طور سے گرتے ہیں شرارے نوری روئے پُرنور پہ یا وارے ہیں تارے گیسو