Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Kyun barhween pe hai sabhi ko pyar aa gaya

Kyun barhween pe hai sabhi ko pyar aa gaya

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
کیوں بارہویں پہ ہے سبھی کو پیار آ گیا آیا اسی دن احمدِ مختار آ گیا گھر آمنہ کے سیّدِ ابرار آ گیا خوشیاں مناؤ غمزدہ غمخوار آ گیا جس وقت کوئی مرحلہ دُشوار آ گیا اُس وقت کام سیّدِ ابرار آ گیا برسیں گھٹائیں رحمتوں کی جھوم جھوم کر رحمت سراپا جب میرا سردار آ گیا عرصہ جدائی کا ہوا اب تو بلائیے پھر کاش! رو رو کر کہوں سرکار! آ گیا آؤں گا جب مدینے تو رو کر کہوں گا میں بھاگا ہوا یہ تیرا گنہگار آ گیا بارِ گناہ سر پہ ہے آنکھوں میں اشک ہیں بخشش کی آس لے کے گنہگار آ گیا مجھ کو شفا دو یانی مرضِ گناہ سے در پر تمہارے عصیاں کا بیمار آ گیا بیمار اپنے عشق کا مجھ کو بنائیے یہ عرض لے کے در پہ سرکار آ گیا کاسہ لئے اُمید کا سلطانِ دو جہاں در پر تمہارا طالبِ دیدار آ گیا خالی نہ لوٹا کوئی بھی دربار سے کبھی سلطان آیا یا کوئی نادار آ گیا سرکار! مجھ کو شربتِ دیدار ہو عطا اب دم لبوں پہ یا شہِ ابرار آ گیا غوث و رضا کا واسطہ ہم کو بلائیے آ کر خوشی سے سب کہیں دربار آ گیا جوتے اتار لو چلو باادب باادب دیکھو مدینے کا حسیں گلزار آ گیا اب سر جھکائے زائر و! پڑھتے ہوئے دُرود آگے بڑھو لو دیکھ لو دربار آ گیا عشقِ نبی میں اشک کرو پیش زائر و! دربارِ عالی منبعِ انوار آ گیا آگے بڑھو اے عاصیو قدموں میں جا پڑو وہ بے کسوں کا یاور و غمخوار آ گیا اب مسکراتے آئیے سوئے گناہ گار آقا اندھیری قبر میں عطّار آ گیا عطّار کو جو دیکھا اُٹھا حشر میں یہ شور دیکھو غلامِ سیّدِ ابرار آ گیا