میں ہوں سائل میں ہوں منگتا یا خواجہ میری جھولی بھر دو
ہاتھ بڑھا کر ڈال دو ٹکڑا یا خواجہ میری جھولی بھر دو
جو بھی سائل آجاتا ہے من کی مرادیں پا جاتا ہے
میں نے بھی دامن ہے پسارا یا خواجہ میری جھولی بھر دو
سلطانِ کونین کا صدقہ مولیٰ علی حسنین کا صدقہ
صدقہ خاتونِ جنّت کا یا خواجہ میری جھولی بھر دو
مجھ کو عشقِ رسول عطا ہو خواجہ نظرِ کرم سے بنادو
شاہِ مدینہ کا دیوانہ یا خواجہ میری جھولی بھر دو
رَب کی عبادت کی دُشواری اور گناہوں کی بیماری
دونوں آفتیں دُور ہوں خواجہ یا خواجہ میری جھولی بھر دو
دے دو تم عطؔار کو خواجہ سُنّت کی خِدمت کا جذبہ
ہر سُو دیں کا بجا دے ڈنکا یا خواجہ میری جھولی بھر دو