منانا جشنِ میلادُ النّبی ہرگز نہ چھوڑیں گے
جُلوسِ پاک میں جانا کبھی ہرگز نہ چھوڑیں گے
خدا کے دوستوں سے دوستی ہرگز نہ چھوڑیں گے
نبی کے دشمنوں کی دشمنی ہرگز نہ چھوڑیں گے
خدائے پاک کی رسی کبھی ہرگز نہ چھوڑیں گے
نہیں چھوڑیں گے دامانِ نبی ہرگز نہ چھوڑیں گے
لگاتے جائیں گے ہم یارسول اللہ کے نعرے
مچانا مرحبا کی دھوم بھی ہرگز نہ چھوڑیں گے
جو چاہو مانگ لو دروازۂ رحمت کھلا ہے آج
تمہیں خالی ولادت کی گھڑی ہرگز نہ چھوڑیں گے
منائیں گے خوشی ہم حشر تک جشنِ ولادت کی
سجاوٹ اور کرنا روشنی ہرگز نہ چھوڑیں گے
اگرچہ مال سب اِس راہ میں قربان ہوجائے
مگر نعتِ نبی پڑھنا کبھی ہرگز نہ چھوڑیں گے
نبی کے نام پر سوجان سے قربان ہوجائیں
غلامانِ نبی ذکرِ نبی ہرگز نہ چھوڑیں گے
جو کوئی جس کا کھاتا ہے اُسی کے گیت گاتا ہے
نبی کے گیت گانا ہم کبھی ہرگز نہ چھوڑیں گے
اگرچہ راستے میں لاکھ روڑے کوئی اٹکائے
رہِ اُلفت پہ چلنا ہم کبھی ہرگز نہ چھوڑیں گے
کمائے مال وزر در در پھرے اپنی بلا ہم تو
نہ چھوڑیں گے مدینے کی گلی ہرگز نہ چھوڑیں گے
اے میرے بھائیو! ہے تم سے مدنی التجا میری
پکارو ہم رضا کی پیروی ہرگز نہ چھوڑیں گے
صحابہ اور ولیوں کی مَحَبَّت دل میں ڈالی ہے
لہٰذا دعوتِ اسلامی بھی ہرگز نہ چھوڑیں گے
ہمارا عہد ہے کہ دعوتِ اسلامی کو ہرگز
کبھی بھی ہم نہ چھوڑیں گے کبھی ہرگز نہ چھوڑیں گے
تسلی رکھ نہ مایوسِ قبر و حشر میں عطؔار
تجھے تنہا رسولِ ہاشمی ہرگز نہ چھوڑیں گے