مرحبا صد مرحبا صلِّ علیٰ خوش آمدید
آمدِ نورِ خدا صلِّ علیٰ خوش آمدید
یا حبیبِ کبریا صلِّ علیٰ خوش آمدید
تاجدارِ انبیا صلِّ علیٰ خوش آمدید
اے مرے مشکل کشا صلِّ علیٰ خوش آمدید
جان و دل تم پر فدا صلِّ علیٰ خوش آمدید
سرورِ ارض و سما صلِّ علیٰ خوش آمدید
اے شہِ ہر دوسرا صلِّ علیٰ خوش آمدید
شمس میں تیری ضیا صلِّ علیٰ خوش آمدید
مہ میں تیرا چاندنا صلِّ علیٰ خوش آمدید
کیوں یہ گھر گھر روشنی ہے آج کس کا جشن ہے؟
آمنہ کے لال کا صلِّ علیٰ خوش آمدید
آج کیوں چاروں طرف یہ مرحبا کی دھوم ہے؟
کیوں ہے ہر سُو غُلغُلہ صلِ علیٰ خوش آمدید
بات یہ ہے آج دنیا میں ہوئے ہیں جلوہ گر
بیٹھے بیٹھے مصطفےٰ صلِ علیٰ خوش آمدید
مرحبا جشنِ ولادت مرحبا صد مرحبا
نورِ عینِ آمنہ صلِ علیٰ خوش آمدید
جشنِ میلادالنبیؐ کی دھوم ہے چاروں طرف
ہر کوئی ہے کہہ رہا صلِ علیٰ خوش آمدید
رَحْمَۃ لِّلْعَلَمِیں کی ہو گئی جلوہ گری
بابِ رَحمت وا ہوا صلِ علیٰ خوش آمدید
چشمِ ما روشن دلِ ماشاد اے جانِ چمن
مرحبا یا مصطفےٰ صلِ علیٰ خوش آمدید
چھٹ گئے ظُلمت کے بادل دُور اندھیرا ہو گیا
نور والا آ گیا صلِ علیٰ خوش آمدید
خانہ کعبہ میں جو بُت تھے سب اوندھے گر پڑے
دبدبہ آمد کا تھا صلِ علیٰ خوش آمدید
انبیاء و مُرسَلیں سب کی امامت کا برترے
سر پہ ہے سہرا سجا صلِ علیٰ خوش آمدید
آمنہ کے گھر میں جب آمد محمدؐ کی ہوئی
چار سُو یہ شور اُٹھا صلِ علیٰ خوش آمدید
خوب صدقہ بٹ رہا ہے آمنہ کے گھر پہ آج
آئے شاہِ اَضحیا صلِ علیٰ خوش آمدید
ہم غریبوں کے تو بس وارے ہی نیارے ہو گئے
در تمہارا مل گیا صلِ علیٰ خوش آمدید
بھر دو سینے میں سُرور اور آنکھ کر دو نور نور
دل مرا دو جگمگا صلِ علیٰ خوش آمدید
قبر میں جلوہ نبیؐ کا دیکھ کر عطارؔ کاش!
بول اُٹھے بے ساختہ صلِ علیٰ خوش آمدید