ایک خاص مصیبت پہ عرض کیا گیا اور اللہ کے فضل سے فوراً مصیبت ٹل گئی۔
ہو گیا یا غوث میں برباد ہوتے آپ کے
رہ گیا میں بے کس و ناشاد ہوتے آپ کے
گھوم پھر کر دیکھ سب دروازے مجھ پر بند ہیں
اب کدھر جاؤں شہِ بغداد ہوتے آپ کے
کربلا والوں کا صدقہ مجھ دکھی پر رحم کر
اب کہاں جا کر کروں فریاد ہوتے آپ کے
دیں چھوٹا سارے ساتھی چل دیئے منہ موڑ کر
رہ گیا پردیس میں ناشاد ہوتے آپ کے
سیدا بغداد والے یہ مدد کا وقت ہے
مجھ پہ کیسی پڑ گئی افتاد ہوتے آپ کے
تم سخی ابن سخی ابن سخی ہو خُسرو
یہ گدا کس کو کرے پھر یاد ہوتے آپ کے
تم شہِ بغداد مولا میں غلامِ خانہ زاد
رنج و غم سے کیوں نہ ہوں آزاد ہوتے آپ کے
عبدِ قادر آپ ہیں ہر شے پہ قادر آپ ہیں
پھر کہوں کس سے پئے امداد ہوتے آپ کے
آپ کا ارشادِ عالی ہے مُرِیدی لَا تَخَفْ
رنج میں ہے سالکِ ناشاد ہوتے آپ کے
ہیں میرے پیر لاثانی محی الدین جیلانی
نبی کی شمع نورانی محی الدین جیلانی
علی کے لاڈلے نورِ نگاہِ حضرتِ زہرہ
رسولِ اللہ کے جانی محی الدین جیلانی
لقب ہے قطبِ ربانی شرف محبوبِ سبحانی
ہے رُخ قندیلِ نورانی محی الدین جیلانی
بِلادُ اللہِ مُلکِی تَحتَ حُکمی سے ہوئی ثابت
جہاں میں تیری سلطانی محی الدین جیلانی
عَزُومٌ قاتِلٌ اَلْقِتالِی شانِ عالی ہے
نہیں کوئی ترا ثانی محی الدین جیلانی
بجز تیرے شہِ بغداد کوئی اور کیا جانے
میرے دل کی پریشانی محی الدین جیلانی
فقیرِ قادری میں بادشاہِ قادری تم ہو
ہو دردِ دل کی درمانی محی الدین جیلانی
خوشی سے کر دو مثلِ ورد میرے غنچہِ دل کو
پئے سلطانِ سمنانی محی الدین جیلانی
تمہارا اِک اشارہ ہو تو میرا کام بن جائے
رفع ہو ساری حیرانی محی الدین جیلانی
مدد کا وقت ہے مشکل کُشائی کے لیے آؤ
ہے بحرِ غم میں طغیانی محی الدین جیلانی
غلامِ درگہ والا ہے سالک پھر کدھر جائے
سنانے رنجِ پنہانی محی الدین جیلانی