اے بہارِ باغِ ایماں مرحبا صد مرحبا
اے چراغِ بزمِ عرفاں مرحبا صد مرحبا
تم سے رونقِ دین کی تم سے بہارِ ایماں کی
حامیِ دینِ نبی ہو اہلِ دیں کے مدّعا
بے گماں جانو رسول اللہ سے اللہ کو
رہبری سے تیری پایا ہم نے بابِ مصطفیٰ
آپ کی تقریر ہے بے شبہ تفسیرِ حدیث
آپ کی تحریر ہے بیماریِ دل کی دوا
آپ کے سایہ میں گر آوے تو مگس ہووے ہما
آپ کی چشمِ کرم سے مس بھی بن جائے طلا
کیوں نہ ہو تم پہ تصدق اہلِ دل اہلِ نظر
جانشینِ مصطفیٰ ہو نورِ چشمِ مصطفیٰ
تم نعیمِ دیں ہو سالک فقیرِ دیں ہے
حق تعالیٰ نے تمہیں کیا اس کو گدا