سرو ہے جو کٹے اسلام کی خدمت کے لیے
آبرو وہ جو گئے دین کی عظمت کے لیے
جو کہ ہے دل سے جگر پارۂ زہرہ پہ نثار
خُلد ہے اس کے لیے اور وہ جنت کے لیے
ناؤ ہیں آلِ نبی نجم ہیں اصحابِ رسول
لِلّٰہِ الْحَمْد کہ ہے یہ امت کے لیے
ہر دنیٰ چیز ہوا کرتی ہے اعلیٰ پہ نثار
جسم ہے جاں کے لیے جاں ہے عترت کے لیے
کیوں جھکے سامنے ادنیٰ کے وہ ذاتِ عالی
جس کا ہر نقشِ قدم قبلہ ہو اُمت کے لیے
نونہالِ چمنِ مصطفیٰ مرتضوی
جسے قدرت نے چنا زینتِ جنت کے لیے
جو کہ آغوشِ پیمبر میں پلا پھولا تھا
کربلا میں وہ کٹا دیں کی حفاظت کے لیے
ہاشمی باغ ہوا ہاشمی خوں سے سیراب
باغِ زہرہ کٹا اس باغ کی نزہت کے لیے
استقامت پہ فدا ہیں تری اے دستِ حسین
نہ گیا ہاتھ میں بے دین کے بیعت کے لیے
اس دوگانہ پہ فدا ساری نمازیں جس میں
دھار حلقوم پہ سرخم ہو عبادت کے لیے
کھل گیا اس سے اگر حق پہ نہ ہوتے اُصحاب
دستِ حسنین نہ بڑھتا کبھی بیعت کے لیے
سالکؔ اصحاب تو نورانی ہیں اور آل ہے نور
نور کو نوری ہی لاحق تھا معیت کے لیے