سنتوں سے بھائی رشتہ جوڑ تُو
بت نئے فیشن سے منہ کو موڑ تُو
شادیوں میں مت گنہ نادان کر
خانہ بربادی کا مت سامان کر
سادگی شادی میں ہو سادہ جہیز
جیسا بی بی فاطمہ کا تھا جہیز
نیکیاں کر جلد تُو بدیوں سے بھاگ
قبر میں ورنہ بھڑک اُٹھے گی آگ
کینہ مسلم سے سینہ پاک کر
اتباعِ صاحبِ لولاک کر
چھوڑ دے داڑھی منڈانا ہے حرام
ایک مُٹھی سے گھٹانا ہے حرام
سنتوں پر جو حقارت سے ہنسے
وہ عذابِ دائمی میں جا پھنسے
چھوڑ دے سارے غلط رسم و رواج
سنتوں پر چلنے کا کر عہد آج
خوب کر ذکرِ خدا و مصطفٰے
دل مدینہ یاد سے اُن کی بنا
کر عطا یارب غمِ شاہِ اُمم
بھول جائیں رنج و غم دنیا کے ہم
سنتوں کی لوٹا جا کے متاع
ہو جہاں بھی سنتوں کا اجتماع
از طفیلِ غوثِ اعظم یاغفور
بخش دے ہم عاصیوں کے سب قصور
یاخدا ہے التجا عطار کی
سُنتیں اپنائیں سب سرکار کی
یاالہی! اپنے شاہِ اُمم
حشر میں عطار کا رکھنا بھرم