میرے خواب میں آ بھی جا غوثِ اعظم
پلا جامِ دیدار یا غوثِ اعظم
کبھی تو غریبوں کے گھر کوئی پھیرا!
ہماری بھی قسمت جگا غوثِ اعظم
کچھ ایسی پلا دو شرابِ محبّت
نہ اترے کبھی بھی نشہ غوثِ اعظم
ہیں زیرِ قدم گردنیں اولیاء کی
تمہارا ہے وہ مرتبہ غوثِ اعظم
ہیں سارے ولی تیرے زیرِ نگیں اور
ہے تُو سیّد الاولیاء غوثِ اعظم
مدد کیجئے آہ! چاروں طرف سے
میں آفات میں ہوں گھرا غوثِ اعظم
بہار آئے میرے بھی اجڑے چمن میں
چلا کوئی ایسی ہوا غوثِ اعظم
رہے شاد و آباد میرا گھرانا
کرم از پئےِ مصطفےٰ غوثِ اعظم
دمِ نزع شیطاں نہ ایماں لے لے
حفاظت کی فرما دعا غوثِ اعظم
مریدین کی موت توبہ پہ ہوگی
ہے یہ آپ ہی کا کہا غوثِ اعظم
مری موت بھی آئے توبہ پہ مُرشد!
ہوں میں بھی مریدِ آپ کا غوثِ اعظم
کرم آپ کا گر ہوا تو یقیناً
نہ ہوگا بُرا خاتمہ غوثِ اعظم
مری قبر میں ”لا تَخَف“ کہتے آئو
اندھیرا رہا ہے ڈرا غوثِ اعظم
گو عطّار بد ہے بدوں کا بھی سردار
یہ تیرا ہے تیرا، ترا غوثِ اعظم