Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Mere tum khwab mein aao, mere ghar roshni hogi

Mere tum khwab mein aao, mere ghar roshni hogi

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
میرے تم خواب میں آؤ، میرے گھر روشنی ہوگی مری قسمت جگا جاؤ، عنایت یہ بڑی ہوگی مدینے مجھ کو آنا ہے، غمِ فرقت مٹانا ہے کب آقائے مدینہ در، پہ میری حاضری ہوگی شہنشاہِ مدینہ دو، تڑپنے کا قرینہ دو وہ آنکھ آقا عنایت ہو، کہ جو اشکوں بھری ہوگی بنالو اپنا دیوانہ، بنالو اپنا مستانہ خزانے میں تمہارے کیا، کمی پیارے نبی ہوگی غمِ دوری رُلاتا ہے، مدینہ یاد آتا ہے تسلی رکھ اے دیوانے، تری بھی حاضری ہوگی مجھے گر دید ہوجائے، تو میری عید ہوجائے ترا دیدار جب ہوگا، مجھے حاصل خوشی ہوگی گناہوں کا سُخت پہرہ ہے، غموں کا گھپ اندھیرا ہے ذرا سا مسکرا دو گے، تو دل میں روشنی ہوگی الہی گنبدِ خضرا کے سائے میں شہادت دے مری لاش اُن کے قدموں میں، نہ جانے کب پڑی ہوگی ہمیں بھی اذن مل جائے، شہا قدموں میں آنے کا نہ جانے کب مدینے میں، ہماری حاضری ہوگی مدینہ میرا ہو مسکن، بقیعِ پاک ہو مدفن مری اُمید کی کھیتی، نہ جانے کب ہری ہوگی تڑپ کر غم کے مارو تم، پکارو یارسول اللہ تمہاری ہر مصیبت دیکھنا دم میں ٹلی ہوگی اگر وہ چاند سے چہرے، کو چمکاتے ہوئے آئے غموں کی شام بھی صبحِ بہاراں بن گئی ہوگی فرشتے آچکے سر پر، بچالو شافعِ محشر چھپا دامن میں لو سرور، سزا ورنہ کڑی ہوگی گناہوں پر ندامت ہے، اور اُمیدِ شفاعت ہے کرم ہوگا رہائی نارِ دوزخ سے جبھی ہوگی سرِ محشر وہ جس دم جلوہِ زیبا دکھائیں گے فضا صلِ علیٰ یا مصطفٰے سے گونجتی ہوگی وہ جامِ کوثر اپنے ہاتھ سے بھر کر پلائیں گے کرم سے دُور محشر میں، ہماری تشنگی ہوگی میں بن جاؤں سراپا’’مدنی انعامات‘‘ کی تصویر بنوں گا نیک یا اللہ اگر رحمت تری ہوگی رہوں ہر دم مسافر کاش ’’مدنی قافلوں‘‘ کا میں کرم ہوجائے مولا! اگر، عنایت یہ بڑی ہوگی زبان کا، آنکھ کا اور پیٹ کا قفلِ مدینہ تم لگا لو ورنہ محشر، میں پشیمانی بڑی ہوگی مجھے جلوہ دکھا دینا مجھے کلمہ پڑھا دینا اَجل جس وقت سر پر یانبی! میرے کھڑی ہوگی اندھیرا گھپ اندھیرا ہے، شہا وحشت کا ڈیرا ہے کرم سے قبر میں تم آؤ گے تو روشنی ہوگی مرے مَرقَد میں جب عطّار وہ تشریف لائیں گے لبوں پر نعتِ شاہِ انبیا اُس دم سجی ہوگی