مومن ہوں مومنوں پہ رؤف رحیم ہوں
سائل ہوں سائلوں کو خوشی لا نھر کی ہے
دامن کا واسطہ مجھے اُس دھوپ سے بچا
مجھ کو شاق جاڑوں میں اس دوپہر کی ہے
ماں دونوں بھائی بیٹے بھتیجے عزیز دوست
سب تجھ کو سونپے ملک ہی سب تیرے گھر کی ہے
جن جن مرادوں کے لئے احباب نے کہا
پیشِ خبیر کیا مجھے حاجت خبر کی ہے
فضلِ خدا سے غیب شہادت ہوا انہیں
اس پر شہادت آیت و وحی و اثر کی ہے
کہنا نہ کہنے والے تھے جب سے تو اطلاع
مولیٰ کو قول و قائل و ہر خشک و تر کی ہے
اُن پر کتاب اتری بیاناً لکل شیء
تفصیل جس میں ما غبر و ما غبر کی ہے
آگے رہی عطا وہ بقدر طلب تو کیا
عادت یہاں امید سے بھی بیشتر کی ہے
بے مانگے دینے والے کی نعمت میں غرق ہیں
مانگے سے جو ملے کسے فہم اس قدر کی ہے
احباب اس سے بڑھ کے تو شاید نہ پائیں عرض
ناکردہ عرض عرضِ یہ طرزِ دگر کی ہے
دنداں کا نعت خواں ہوں نہ پایاب ہو گی آب
ندی گلے گلے مرے آبِ گہر کی ہے
دشتِ حرم میں رہنے دے صیاد اگر تجھے
مٹی عزیز بلبلِ بے بال و پر کی ہے
یارب رضا نہ احمدِ پارینہ ہو کے جائے
یہ بارگاہ تیرے حبیبِ ابر کی ہے
توفیق دے کہ آگے نہ پیدا ہو خوئے بد
تبدیل کر جو خصلتِ بد پیشتر کی ہے
آ کچھ سنا دے عشق کے بولوں میں اے رضا
مشتاق طبع لذتِ سوزِ جگر کی ہے