Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Mujhe Bulalo Shah-e-Madina Yeh Hijr Ka Gham Sata Raha Hai

مجھے بلالو شہِ مدینہ یہ ہجر کا غم ستا رہا ہے

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
مجھے بُلالو شہِ مدینہ، یہ ہجر کا غم ستا رہا ہے میں در پہ آؤں یہی تو ارمان، دل میں طوفاں مچا رہا ہے ہے سہنا دُشوار یہ جُدائی، مِری ہو در تک شہا رسائی نہیں بھروسا ہے زندگی کا، یہ دل میرا ڈُوبا جا رہا ہے نہیں تمنائے مال و دولت، نہیں مجھے خواہشِ حکومت مِری نظر میں حسین و دلکش، وہ سبز گنبد سما رہا ہے یہی تو حسرت رہی ہے دل میں، مجھے اجل بھی وہیں پہ آئے جہاں پہ آقا ہے پیارا روضہ، یہی تو ارمان سدا رہا ہے ہے جھولی خالی اے شاہِ عالی کھڑا ہے در پہ ترے سوالی غریب منگتا مُرادیں لینے، کو ہاتھ گندے بڑھا رہا ہے اے بینواؤ! گداؤ آؤ!، پسارے دامن صفیں بناؤ خزانہ رحمت کا بانٹتا وہ، خدا کا محبوب آ رہا ہے گدائے در جاں بلب ہے آقا، نقاب اُٹھاؤ دکھا دو جلوہ ہو تشنہ دید پر عنایت، جہاں سے پیاسا ہی جا رہا ہے میں گورِ تیرہ میں آ پڑا ہوں، فرشتے بھی آ چکے ہیں سر پر چلے گئے ناز اُٹھانے والے، تِرا ہی اب آسرا رہا ہے ہے نَفسی نَفسی چہار جانب، نثار جاؤں کہاں ہوں مولیٰ چھپا لو دامن میں پیارے آقا، یہ شورِ محشر ڈرا رہا ہے خدائے غفار بخش دے اب حبیب کی لاج رکھ ہی لے اب ہمارا غم خوار فکرِ اُمت، میں دیکھ آنسو بہا رہا ہے صبا جو پھیرا ہو گوئے جاناں، تو غمزدہ کا سلام کہنا یہ عرض کرنا غریبِ عطار کب مدینے کو آ رہا ہے