Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Mujhe dar pe phir bulana Madni Madine wale

Mujhe dar pe phir bulana Madni Madine wale

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے مئے عشق بھی پلانا مدنی مدینے والے مری آنکھ میں سمانا مدنی مدینے والے بنے دل ترا ٹھکانا مدنی مدینے والے تری جبکہ دید ہوگی میری عید ہوگی مرے خواب میں تو آنا مدنی مدینے والے مجھے غم ستا رہے ہیں مری جان کھا رہے ہیں تمہیں حوصلہ بڑھانا مدنی مدینے والے مرے سب عزیز چھوٹیں مرے دوست بھی گو روٹھیں شہ تم نہ روٹھ جانا مدنی مدینے والے میں اگرچہ ہوں کمینہ ترا ہوں شہِ مدینہ مجھے قدموں سے لگانا مدنی مدینے والے ترے در سے شاہ بہتر ترے آستاں سے بڑھ کر ہے کوئی ٹھکانا مدنی مدینے والے ترا تجھ سے ہوں سوالی شہا پھیرنا نہ خالی مجھے اپنا تو بنانا مدنی مدینے والے یہ مریض مر رہا ہے ترے ہاتھ میں شفا ہے اے طبیب! جلد آنا مدنی مدینے والے تُو ہی انبیا کا سرور تُو ہی دوجہاں کا یاور تُو ہی رہبرِ زمانہ مدنی مدینے والے تُو ہے بیکسوں کا یاور اے مرے غریب پرور ہے سخی ترا گھرانہ مدنی مدینے والے تُو خدا کے بعد بہتر ہے سبھی سے میرے سرور ترا ہاشمی گھرانہ مدنی مدینے والے تری فرش پر حکومت تری عرش پر حکومت تُو شہنشہِ زمانہ مدنی مدینے والے ترا خلق سب سے بالا ترا حسن سب سے اعلیٰ فدا تجھ پہ سب زمانہ مدنی مدینے والے کہوں کس سے آہ! جاکر سنے کون میرے سرور مرے درد کا فسانہ مدنی مدینے والے بِعطائے رب حاکم تُو ہے رزق کا بھی قاسم ہے ترا سب آب و دانہ مدنی مدینے والے میں غریب بے سہارا کہاں اور ہے گزارہ مجھے آپ ہی نبھانا مدنی مدینے والے یہ کرم بڑا کرم ہے ترے ہاتھ میں بھرم ہے سرِ حشر بخشوانا مدنی مدینے والے کبھی جو کی موٹی روٹی تو کبھی کھجور پانی ترا ایسا سادہ کھانا مدنی مدینے والے ہے چٹائی کا بچھونا کبھی خاک ہی پہ سونا کبھی ہاتھ کا سرہانا مدنی مدینے والے تری سادگی پہ لاکھوں تری عاجزی پہ لاکھوں ہوں سلام عاجزانہ مدنی مدینے والے مرے شاہ! وقتِ رخصت مجھے میٹھا شربت تری دید کا پلانا مدنی مدینے والے ملے نَزع میں بھی راحت رہوں قبر میں سلامت تُو عذاب سے بچانا مدنی مدینے والے گھپ اندھیری قبر میں جب مجھے چھوڑ کر چلیں سب مری قبر جگمانا مدنی مدینے والے پسِ مرگ سبز گنبد کی ٹھنڈی ٹھنڈی مجھے چھاؤں میں سلانا مدنی مدینے والے اے شفیعِ روزِ محشر! ہے گنہ کا بوجھ سر پر میں پھنسا مجھے بچانا مدنی مدینے والے مرے والدینِ محشر میں گو بھول جائیں سرور مجھے تم نہ بھول جانا مدنی مدینے والے شہ! تشنگی بڑی ہے یہاں دھوپ بھی کھڑی ہے شہِ حوضِ کوثر آنا مدنی مدینے والے مجھے آفتوں نے گھیرا، ہے مصیبتوں کا ڈیرا یا نبی مدد کو آنا مدنی مدینے والے ترے در کی حاضری کو جو تڑپ رہے ہیں اُن کو شہ! جلد تُو بلانا مدنی مدینے والے کوئی اس طرف بھی پھیرا ہو غموں کا دور اندھیرا اے سراپا نور! آنا مدنی مدینے والے کوئی پائے بخت ور گر ہے شرفِ شہٰی سے بڑھ کر ترے نعلِ پاک اٹھانا مدنی مدینے والے مرا سینہ ہو مدینہ مرے دل کا آبگینہ بھی مدینہ ہی بنانا مدنی مدینے والے اے حبیبِ ربِ باری ہے گنہ کا بوجھ بھاری تمہیں حشر میں چھڑانا مدنی مدینے والے مری عادتیں ہوں بہتر بنوں سُنّتوں کا پیکر مجھے مُتقی بنانا مدنی مدینے والے شہٰی! ایسا جذبہ پاؤں کہ میں خوب سیکھ جاؤں تری سُنّتیں سکھانا مدنی مدینے والے ترے نام پر ہو واری مری جاں، حبیبِ باری ہو نصیب سب لٹانا مدنی مدینے والے تری سُنّتوں پہ چل کر مری روح جب نکل کر چلے تو گلے لگانا مدنی مدینے والے ہیں مُبلغِ آقا جتنے کرو دُور اُن سے فتنے بُری موت سے بچانا مدنی مدینے والے مرے غوث کا وسیلہ رہے شاد سب قبیلہ انہیں خُلد میں بسانا مدنی مدینے والے مرے جس قدر ہیں احباب انہیں کر دیں شاہِ بیتاب ملے عِشق کا خزانہ مدنی مدینے والے مری آنیوالی نسلیں ترے عِشق ہی میں مچلیں انہیں نیک تو بنانا مدنی مدینے والے ملے سُنّتوں کا جذبہ مرے بھائی چھوڑیں مولیٰ سبھی داڑھیاں مُنڈانا مدنی مدینے والے مری کاش! ساری بہنیں، رہیں مدنی برقعوں میں ہو کرم شہِ زمانہ مدنی مدینے والے دو جہان کے خزانے دیئے ہاتھ میں خدا نے ترا کام ہے لٹانا مدنی مدینے والے ترا غم ہی چاہے عطّار اِسی میں رہے گرفتار غمِ مال سے بچانا مدنی مدینے والے