Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Musarrat se seena madina bana tha maza khoob Ramzan mein aa raha tha

Musarrat se seena madina bana tha maza khoob Ramzan mein aa raha tha

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
مسرّت سے سینہ مدینہ بنا تھا مزہ خوب رمضان میں آ رہا تھا پڑے رنج و غم کا اندھیرا ہوا تھا مزہ خوب رمضان میں آ رہا تھا خبر جب کہ رمضاں کی آمد کی آئی تو مرجھائے دل کی کلی مسکرائی اور ابرِ کرم نور برسا رہا تھا مزہ خوب رمضان میں آ رہا تھا نظر چاند رمضاں کا جس وقت آیا ہُوا رحمتوں کا زمانے پہ سایہ اُفق پر بھی ابرِ کرم چھا گیا تھا مزہ خوب رمضان میں آ رہا تھا کھلے بابِ جنّت، جہنّم کو تالے پڑے، ہر طرف تھے اُجالے اُجالے وہ مردُود شیطان قیدی بنا تھا مزہ خوب رمضان میں آ رہا تھا ترانے خوشی کے فضا گنگناتی ہُوا بھی مسرّت کے نغمے سناتی جدھر دیکھئے مرحبا مرحبا تھا مزہ خوب رمضان میں آ رہا تھا فضائیں بھی کیا نور برسا رہی تھیں ہوائیں مسرّت سے اٹھلا رہی تھیں سماں ہر طرف کیف و مستی بھرا تھا مزہ خوب رمضان میں آ رہا تھا شب و روز رحمت کی برسات ہوتی عطاؤں کی جھولی میں خیرات ہوتی مسلماں کا دامن کرم سے بھرا تھا مزہ خوب رمضان میں آ رہا تھا جو اُلفت کے پیمانے تقسیم ہوتے تو بخشش کے پروانے ترقیم ہوتے خوشا! بحرِ رحمت کو جوش آ گیا تھا مزہ خوب رمضان میں آ رہا تھا مساجد میں ہر سُو بہار آ گئی تھی خدا کے کرم کی گھٹا چھا گئی تھی جسے دیکھو سجدے میں آ کر گرا تھا مزہ خوب رمضان میں آ رہا تھا فضائیں منوّر ہوائیں معطّر خدا کی قسم تھا سماں کیف آور دلوں پر بھی اک وجد سا چھا گیا تھا مزہ خوب رمضان میں آ رہا تھا کلیجے میں ٹھنڈک تھی، چہرے پہ پانی دلوں میں بھی تھی کس قدر شادمانی سکوں ماہِ رمضاں میں کیسا ملا تھا مزہ خوب رمضان میں آ رہا تھا مسلماں تھے خوش رُخ پہ رونق بڑی تھی خدا کے کرم کی برستی جھڑی تھی عبادت میں دل کس قدر لگ گیا تھا مزہ خوب رمضان میں آ رہا تھا سرِ شامِ اِفطار کی رونقیں تھیں بوقتِ سَحَر کس قَدَر بَرکتیں تھیں سُرور آ رہا تھا مزہ آ رہا تھا مزہ خوب رَمضان میں آ رہا تھا مقدّر نے کی یاوَری ساتھ جن کے مساجد میں وہ مُعْتَکِف ہو گئے تھے عبادت کا کیا خوب جذبہ ملا تھا مزہ خوب رَمضان میں آ رہا تھا عبادت میں عُشّاق لذّت تھے پاتے ادب سے تلاوت میں سر کو جُھکاتے نمازوں کا روزوں کا بھی اک مزا تھا مزہ خوب رَمضان میں آ رہا تھا مُناجاتِ اِفطار میں رِقّتیں تھیں دُعاؤں میں بھی کس قَدَر لَذّتیں تھیں جسے دیکھو وہ مَحْوِ یادِ خدا تھا مزہ خوب رَمضان میں آ رہا تھا ثنا خوان جس وقت نعتیں سناتے تو آقا کے عُشّاق آنسو بہاتے نشہ خوب عِشقِ نبی کا چڑھا تھا مزہ خوب رَمضان میں آ رہا تھا مُبَلِّغ عذابوں سے جس دَم ڈراتا کوئی کپکپاتا کوئی تھر تھراتا کوئی گڑگڑاتا کوئی چیختا تھا مزہ خوب رَمضان میں آ رہا تھا گھڑی جبکہ رَمضاں کی رُخصت کی آئی تڑپتے تھے صدمے سے اسلامی بھائی بلکتا تھا کوئی ، کوئی غمزدہ تھا مزہ خوب رَمضان میں آ رہا تھا دَمِ رُخصتِ ماہِ رَمضاں مسلماں تھے غمگیں و حیراں، پریشاں پریشاں شبِ عید دیکھو جسے رو رہا تھا مزہ خوب رَمضان میں آ رہا تھا مجھے ماہِ رَمضاں کا غم دے الٰہی مٹا حُبِّ دنیا کی دل سے سیاہی مزہ فانی سُنسار میں کیا رکھا تھا مزہ خوب رَمضان میں آ رہا تھا جو تھے مُعْتَکِف ”مدنی مرکز“ کے اندر بیچارے تھے عطّار مغموم و مُضْطَر دَمِ الوداع ان کا دل جل رہا تھا مزہ خوب رَمضان میں آ رہا تھا