نہ دولت نہ مال اور خزینے کی باتیں
سناؤ ہمیں بس مدینے کی باتیں
مدینے کی باتیں سناؤ کہ ہیں یہ
مریضِ محبت کے جینے کی باتیں
مُقَدَّس ہیں دیگر مہینے بھی لیکن
نرالی ہیں حج کے مہینے کی باتیں
سناؤ نہ پیروں کے قصے، سناؤ
مدینے کے پیارے سفینے کی باتیں
نہ کر مُشک و عَنبَر کی باتیں، بیاں کر
نبی کے مُعَطَّر پسینے کی باتیں
مری یادِ گوئی کی عادت نکالو
کروں میں ہمیشہ قرینے کی باتیں
فُضول اور بیکار باتوں کے بدلے
کروں کاش! ہر دم مدینے کی باتیں
گورمی میں مشروب ٹھنڈا ہے مرغوب
کرو جامِ آقا سے پینے کی باتیں
شہاً میرا سینہ مدینہ بنادو
خیالوں میں ہوں بس مدینے کی باتیں
بنے کاش! عطّار ایسا مبلغ
مُؤَثَّر ہوں آقا کمینے کی باتیں