ندا ہوگی یہ محشر میں گنہگارو نہ گھبراؤ
وہ دیکھو ابرِ رحمت جھوم کر اُٹھا محمدؐ کا
اگرچہ عابدوں کے پاس سامانِ عبادت ہے
گنہگاروں کو کافی ہے فقط ایما محمدؐ کا
لحد کا خوف کیوں ہو روزِ محشر کا ہو کیا کھٹکا
لیے جاتا ہوں دل پر لکھ کے میں طغرا محمدؐ کا
خدا کے سامنے پیشی ہوئی جس دم تو کہہ دوں گا
بُرا ہوں یا بھلا لیکن ہوں میں بندہ محمدؐ کا
تعجب کیا اگر منہ پھیر لے جنت سے شیدائی
کہ ہے رشکِ بہارِ خُلد ہر کوچہ محمدؐ کا
کوئی جائے گا دوزخ کو کوئی جنت میں پہنچے گا
مدینے کی طرف دوڑے گا دیوانہ محمدؐ کا