نگاہِ مہر جو اُس مہر کی اِدھر ہوجائے
گنہ کے داغ مٹیں دل مرا قمر ہوجائے
جو قَلبِ تیرہ پہ تیری کبھی نظر ہوجائے
تو ایک نور کا بُقعہ وہ سَر بَسَر ہوجائے
ہماری کِشتِ اَمَل میں کبھی تو پھل آئے
کبھی تو شجرۂ اُمید بار ور ہوجائے
کبھی تو ایسا ہو یارب وہ در ہو اور یہ سر
کبھی تو اُن کی گلی میں مرا گزر ہوجائے
ہمارا سر ہو خدایا حبیب کا در ہو
ہماری عُمر الٰہی یونہی بَسَر ہوجائے
جو سچے دل سے کہے کوئی یارسول اللہ
مصیبتیں بھی ٹلیں ہر مہم بھی سَر ہوجائے
مری مصیبتوں کا سلسلہ ابھی کٹ جائے
اشارہ ابروئے خم دار کا اگر ہوجائے
تڑپ رہے ہیں فراقِ حبیب میں عاشق
الٰہی راہِ مدینہ کی بے خطر ہوجائے
ترے غضب سے ہوں غارت یہ دہر کے شیطاں
بنے غلام ہر ایک اُن میں در بدر ہوجائے
جو آپ چاہیں تو ہیزم کو دُم میں سبز کریں
کرم جو آپ کا ہو خلد کا شجر ہوجائے
خدا کے فضل سے ہر خشک و تر پہ قدرت ہے
جو چاہو تو ہوا بھی خشک، خشک تر ہوجائے
عیاں ہے دبدبہ تیرا سماوا سے
ہماری کھیتی بھی سوکھی ہے پیارے تر ہوجائے