پہنچوں مدینے کاش! میں اِس بے خودی کے ساتھ
روتا پھروں گلی گلی دیوانگی کے ساتھ
آتے ہیں مجھ کو یاد وہ لمحاتِ خوشگوار
گزرے تھے طیبہ میں جو کبھی مُرشدی کے ساتھ
جوں ہی نگاہ گُنبدِ خضریٰ کو چوم لے
قربان میری جان ہو خود رفتگی کے ساتھ
مجھ کو بقیعِ پاک میں دو گز زمیں ملے
یارب! دعا ہے تجھ سے مری عاجزی کے ساتھ
اﷲ! میرا حشر ہو ابوبکر اور عمر
عثمانِ غنی و حضرتِ مولیٰ علی کے ساتھ
پلٹے گا پاک ہو کے درِ مصطفٰے سے وہ
پہنچے گا جو گناہوں کی آلودگی کے ساتھ
ہر اک گناہ گار پکارے گا حشر میں
آقا کو اشکبار بڑی بے بسی کے ساتھ
مَحشر میں مجھ کو جوں ہی نظر آئیں گے حُضور
قدموں میں لوٹ جاؤں گا وارفتگی کے ساتھ
یارب! ترے کرم سے جگہ خُلد میں ملے
مجھ کو رسولِ پاک کی ہمسائیگی کے ساتھ
وہ یارِ غار بھی ہیں تو یارِ مزار بھی
ابوبکر آج بھی ہیں ہر دم نبی کے ساتھ
روٹی بھی جو کی اور بچھونا پٹھائی کا
کرتے گزر وہ بڑی سادگی کے ساتھ
فیضانِ غوثِ پاک پلاریب ہے سب کے سب
عطاریوں کے ساتھ ہے ہر قادری کے ساتھ
ایسا کرم ہو نیکیوں میں دل لگا کرے
پڑھتا رہوں گر نماز بھی تو بے دِلی کے ساتھ
اے ذوالجلال تجھ سے مرے دو سوال ہیں
طیبہ میں موت، زندگی گزرے خوشی کے ساتھ
اک بار مسکرا کے مجھے دیکھ لیجیے
دم توڑ دوں گا قدموں میں وارفتگی کے ساتھ
مایوس کیوں ہو عاصیو! تم حوصلہ رکھو
رَب کی عطا سے ان کا کرم ہے سبھی کے ساتھ
خطبہ، اذاں، نماز، عبادت کوئی سی ہو
ذکرِ نبی ضرور ہے ہر بندگی کے ساتھ
تم مدنی قافلوں میں اے اسلامی بھائیو!
کرتے رہو ہمیشہ سفر خوشدلی کے ساتھ
اپنائے جو سدا کیلئے سُنّتِ نبی
میری دعا ہے خُلد میں جائے نبی کے ساتھ
اسلامی بھائی، 'دعوتِ اسلامی' کا سدا
تم مدنی کام کرتے رہو تَنُدہی کے ساتھ
سرکار حاضری ہو مدینے کی بار بار
عطارؔ کی ہے عرض بڑی عاجزی کے ساتھ