Home/Allama Hasan Raza Khan/Parday jis waqt uthein jalwa-e-zebai ke

پردے جس وقت اٹھیں جلوۂ زیبائی کے

Written by Allama Hasan Raza Khan

100%
پردے جس وقت اٹھیں جلوۂ زیبائی کے وہ نگہبان رہیں چشمِ تمنائی کے دھوم ہے فرش سے تا عرش تری شوکت کی خطبے ہوتے ہیں جہانبانی و دارائی کے حُسنِ رنگینی و طلعت سے تمہارے جلوے گل و آئینہ بنے محفل و زیبائی کے ذَرّۂ دشتِ مدینے کی ضیا مہر کرے اچھی ساعت سے پھریں دن شبِ تنہائی کے پیار سے لے لیے آغوش میں سَرِ رحمت نے پائے انعام ترے در کی جبیں سائی کے لاشِ احباب اسی در پر پڑی رہنے دیں کچھ تو ارمان نکل جائیں جبیں سائی کے جلوہ گر ہو جو کبھی چشمِ تمنائی میں پردے آنکھوں کے ہوں پردے تیری زیبائی کے خاک پامال ہماری بھی پڑی ہے سرِ راہ صدقے اے رُوحِ رواں تیری مسیحائی کے کیوں نہ وہ ٹوٹے دلوں کے کھنڈر آباد کریں کہ دکھانے ہیں کمالِ انجمن آرائی کے زینتوں سے ہیں حسینانِ جہاں کی زینت زینتیں پاتی ہیں صدقے تری زیبائی کے نامِ آقا ہوا جو لب سے غلاموں کے بلند بالا بالا گئے غم آفتِ بالائی کے عرش پہ کعبہ و فردوس و دلِ مومن میں شمع افروز ہیں آگے تری یکتائی کے ترے محتاج نے پایا ہے وہ شاہانہ مزاج اس کی گدڑی کو بھی پیوند ہوں دارائی کے اپنے ذَرّوں کے سیہ خانوں کو روشن کر دو مہر ہو تم فلکِ انجمن آرائی کے پورے سرکار سے چھوٹے بڑے ارمان ہوں سب اے حَسَن میرے چھوٹے بڑے بھائی کے نہ رک اے ذلیل و رسوا درِ شہریار پر آ کہ یہ وہ نہیں ہیں حاشا جنہیں تجھ سے عار آئے تری رحمتوں سے کم ہیں مرے جرم اس سے زائد نہ مجھے حساب آئے نہ مجھے شمار آئے گلِ خلد لے کے زاہد تمہیں خارِ طیبہ دے دوں مرے پھول مجھ کو تجھے بڑے ہوشیار آئے بنے ذرّہ ذرّہ گلشن تو ہو خار خارِ گلشن جو ہمارے اجڑے بن میں کبھی وہ نگار آئے ترے صدقے تیرا صدقہ ہے وہ شاندار صدقہ وہ وقار لے کے جائے جو ذلیل و خوار آئے ترے در کے ہیں بھکاری ملے خیر دمِ قدم کی ترا نام سُن کے داتا ہم اُمیدوار آئے حسّان اُن کا نام لے کر تو پکار دیکھ غم میں کہ یہ وہ نہیں جو غافل پسِ انتظار آئے