Home/Mustafa Raza Khan Qadri/Parhoon woh matla-e-Noori sana-e-Mehr-e-Anwar ka

Parhoon woh matla-e-Noori sana-e-Mehr-e-Anwar ka

Written by Mustafa Raza Khan Qadri

100%
پڑھوں وہ مطلعِ نوری ثنائے مہرِ انور کا ہو جس سے قلبِ روشن جیسے مطلع مہرِ محشر کا سرِ عرشِ عُلا پہنچا قدم جب میرے سرور کا زبانِ قدسیاں پر شور تھا اللہ اکبر کا بنا عرشِ بریں مسندِ کفِ پائے منور کا خدا ہی جانتا ہے مرتبہ سرکار کے سر کا دو عالم صدقہ پاتے ہیں مرے سرکار کے دَر کا اسی سرکار سے ملتا ہے جو کچھ ہے مقدر کا بڑے دربار میں پہنچایا مجھ کو میری قسمت نے میں صدقے جاؤں کیا کہنا مرے اچھے مقدر کا ہے خشک و تر پہ قبضہ جس کا وہ شاہِ جہاں یہ ہے یہی ہے بادشاہِ بَر کا یہی سلطانِ سمندر کا مٹے ظلمتِ جہاں کی نور کا تڑکا ہو عالم میں نقاب روئے انور اے مرے خورشیدِ اب سر کا ضیاء بخشی تری سرکار کی عالم پہ روشن ہے مہ و خورشید صدقہ پاتے ہیں پیارے ترے دَر کا نگاہِ مہر سے اپنی بنایا مہرِ ذرّوں کو الٰہی نورِ دُونا ہو مہرِ ذرّہ پرور کا طبق پر آسماں کے لکھتا میں نعتِ شہِ والا قلم اے کاش مل جاتا مجھے جبریل کے پر کا مقابل ان کے ذرّہ کے ذرا منہ نکل آیا بہت شہرہ سنا کرتے تھے ہم خورشیدِ محشر کا جمالِ حق نما دیکھیں عیاں نورِ خدا پائیں کلیم آئیں ہٹا دیکھیں ذرا پردہ ترے در کا نہ سایہ روح کا ہرگز نہ سایہ نور کا ہرگز تو سایہ کیسا اس جانِ جہاں کے جسمِ انور کا وہ آئینہ اگر دیکھیں تو اپنے آپ کو دیکھیں کہاں ہے آئینہ میں اور کوئی ان کے برابر کا محال عقل ہے ترا مماثل اے مرے سرور تو ہم کر نہیں سکتا ہے عاقل تیرے ہم سر کا خدا شاہد رضا کا آپ کی طالب خدا ہوگا تَعَالٰی اللہ رُتبہ میرے حامی میرے یاور کا دبا جاتا پِجا جاتا ہوں میں آقا دہائی ہے یہ بھاری بوجھ عصیاں کا مرے سر کا ذرا سر کا بجھے گی شربتِ دیدار ہی سے تشنگی اپنی تمہاری دید کا پیاسا ہوں یوں پیاسا ہوں کوثر کا زبان پر جم گئے کانٹے ہے سارا حلق خشک اپنا شہیدِ کربلا کا صدقہ دو اِک جامِ کوثر کا کمی کچھ بھی خزانے میں تمہارے ہو نہیں سکتی تمہیں حق نے عطا فرما دیا جب چشمہ کوثر کا جو آب و تاب دندانِ مُنوّر دیکھ لوں نوری مرا بحرِ سخن سر چشمہ ہو خوش آب گوہر کا