پھر سے بلاؤ جلد مدینے میں یارسول
کردو کرم حُضور! پئے فاطمہ بتول
دُنیا پرست زر پہ مرے گل پہ عندلیب
اپنا تو انتخاب مدینے کا ہے بُبول
بیمارِ ہجر کا ابھی ہو جائے گا علاج
جاؤ اُٹھا کے لاؤ مدینے کی تھوڑی دھول
دُنیا کی لذتوں سے مری جان چھوٹ جائے
مجھ کو بنا دے یاخدا تو عاشقِ رسول
میری زبان تر رہے ذِکر و دُرود سے
بے جا ہنسوں کبھی نہ کروں گفتگو فُضول
میری پسند خارِ مدینہ ہے بلبلو
لیکن میں کیا کروں گا تمہارے یہاں کے پھول
خوش بخت بے شمار مدینے میں دَفن ہیں
ہو جائے ان میں کاش! مرا بھی کبھی شُمول
پَرچار سُنّتوں کا جو کرتا ہے رات دن
ہردم ہو اس پہ رحمتوں کا یاخدا نزول
دیتا ہوں تجھ کو واسطہ یارب حُضور کا
ہر ہر خطا تو بخش دے کر ہر مُعاف بھول
غوث و رضا کا واسطہ یاشافعِ اُمم
رکھنا نہ مجھ کو حَشر میں رنجیدہ و ملول
گر لمحہ بھر بھی حاضریِ طیبہ کی ہو نصیب
حاصل یہی ہے زیست کا محنت ہوئی وُصول
سرکار! چار یار کے صدقے میں ہو کرم
عطّار کو سدا کے لئے کر لو تم قَبول