پوچھے گا مولیٰ لایا ہے کیا کیا
میں یہ کہوں گا نامِ محمد
غم کی گھٹائیں چھائی ہیں سر پر
کردے اشارہ نامِ محمد
رنج و اَلم میں ہیں نامِ لیوا
کردے اشارہ نامِ محمد
بیڑا تباہی میں آ گیا ہے
دیدے سہارا نامِ محمد
زخمی جگر پر مجروح دل پر
مرہم لگا جا نامِ محمد
دل میں عداوت خر کے بھری ہے
نجدی نہ لے گا نامِ محمد
اپنے رضا کے قربان جاؤں
جس نے سکھایا نامِ محمد
آنکھوں میں آ کر دل میں سما کر
رنگت رچا جا نامِ محمد
اپنے جمیلِ رضوی کے دل میں
آجا سما جا نامِ محمد