Home/Imam Ahmad Raza Khan Qadri/Poochhte Kya Ho Arsh Par Yun Gaye Mustafa Ke Yun

Poochhte Kya Ho Arsh Par Yun Gaye Mustafa Ke Yun

Written by Imam Ahmad Raza Khan Qadri

100%
پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں کیف کے جہاں جلیں کوئی بتائے کیا کہ یوں قصرِ دنیٰ کے راز میں عقلیں تو گم ہیں جیسی ہیں روحِ قدس سے پوچھیے تم نے بھی کچھ سنا کہ یوں میں نے کہا کہ جلوۂ اصل میں کس طرح گئیں صبح نے نورِ مہر کے دکھا دیا کہ یوں ہائے رے ذوقِ بے خودی دل جو سنبھلنے سا لگا چہک کے مہک میں پھول کی گرنے لگی صبا کہ یوں دل کو دے نورِ داغِ عشق پھر میں فدا و نیم کر مانا ہے سُن کے شقِ ماہ آنکھوں سے اب دکھا کہ یوں دل کو ہے فکر کس طرح مردے جلاتے ہیں حضور اے میں فدا لگا کر ایک ٹھوکر اسے بتا کہ یوں باغ میں شکرِ وصل تھا ہجر میں ہائے ہائے گل کام ہے اُن کے ذکر سے خیر ہو یوں ہوا کہ یوں جو کہے شعرِ پاسِ شرع دونوں کا حُسن کیوں نہ آئے لا اسے پیش جلوہِ زمزمۂ رضا کہ یوں پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں رخصتِ قافلہ کا شور غش سے ہمیں اٹھائے کیوں سوتے ہیں اُن کے سایہ میں کوئی ہمیں جگائے کیوں بار نہ تھے حبیب کو پالتے ہی غریب کو روئیں جو اب نصیب کو چین کہو گنوا ئے کیوں یادِ حضور کی قسم غفلتِ عیش ہے ستم خوب ہیں قیدِ غم میں ہم کوئی ہمیں چھڑائے کیوں دیکھ کے حضرتِ غنی پھیل پڑے فقیر بھی چھائی ہے اب تو چھاؤنی حشر ہی آنہ جائے کیوں جان ہے عشقِ مصطفٰے روز فزوں کرے خدا جس کو ہو درد کا مزہ نازِ دوا اٹھائے کیوں ہم تو ہیں آپ دِل فگار غم میں ہنسی ہے ناگوار چھیڑ کے گل کو نو بہار خون ہمیں رلائے کیوں یا تو یوں ہی تڑپ کے جائیں یا وہی دام سے چھڑائیں منتِ غیر کیوں اٹھائیں کوئی ترس جتائے کیوں اُن کے جلال کا اثر دل سے لگائے ہے قمر جو کہ ہو لوٹ زخم پر داغ مٹا ئے کیوں خوش رہے گل سے عندلیب خارِ حرم مجھے نصیب میری بلا بھی ذکرِ پر پھول کے خار کھائے کیوں گردِ ملال اگر ڈھلے دل کی کلی اگر کھلے برق سے آنکھ کیوں جلے رونے پہ مسکرائے کیوں جانِ سفر نصیب کو اس نے کہا مزے سے سو کھٹکا اگر سحر کا ہو شام سے موت آئے کیوں اب تو نہ روک اے غنی عادتِ سگ بگڑ گئی میرے کریم پہلے ہی لقمہ تر کھلائے کیوں راہِ نبی میں کیا کمی فرشِ بیاضِ دیدہ کی چادرِ ظل ہے مِل گئی زیرِ قدم بچھائے کیوں سنگِ درِ حضور سے ہم کو خدا نہ صبر دے جانا ہے سر کو جاچکے دل کو قرار آئے کیوں ہے تو رضا ذرا ستم جُرم پہ گر لجائیں ہم کوئی بجائے سوزِ غم سازِ طرب بجائے کیوں