جہاں میں آکے ایسا خنجرِ توحید چمکایا
کہ بت بول اٹھے اللہ احد ہر ایک مندر سے
مٹی تاریکیٔ کفر و ضلالت روشنی پھیلی
ابوبکر و عمر عثمان علی شبیر و شبّر سے
بنایا حق تعالیٰ نے انہیں کونین کا مالک
فقیرو مانگ لو ہر شے مِرے محتاج پرور سے
کرم سے ان کے لاکھوں بن گئے بگڑے ہوئے دم میں
غنی صدہا ہوئے اُن کی نگاہِ بندہ پرور سے
مجھے ایسا لگا دے اپنی ذاتِ پاک میں مولیٰ
کہ میری آنکھ میرے حشر تک ترسے
مدینہ کیا ہے اور اس میں بہاریں کیسی کیسی ہیں
کوئی پوچھے ہماری آرزوئے قلبِ مُضطر سے
ہمیں طیبہ میں پہنچا کر گرا دے یا خدا ایسا
نہ اٹھیں ہم قیامت تک رسولِ اللہ کے در سے