قحط سالی ٹلے، فصل پھولے پھلے خوب ہوں بارشیں، قافلے میں چلو
قافلے میں ذرا، مانگو آکر دعا پاؤ گے نعمتیں، قافلے میں چلو
چھوڑیں بے نوشیاں مت بکیں گالیاں آئیں توبہ کریں، قافلے میں چلو
اے شرابی تو آ، آ جواری تو آ چھوٹیں بد عادتیں، قافلے میں چلو
ہوگا لطفِ خدا، آؤ بھائی دعا مل کے سارے کریں، قافلے میں چلو
دور بیماریاں اور پریشانیاں ہوں گی بس چل پڑیں، قافلے میں چلو
السر اور کینسر اب یا ہو دردِ کمر چلئے ہمت کریں، قافلے میں چلو
درد گرچہ تمہارے میں ہے، درسِ فاروق دیں، قافلے میں چلو
فائدہ آخرت کے بنانے میں ہے سب مبلغ کہیں، قافلے میں چلو
کہتے عطار ہیں، جو مرے یار ہیں وہ ہر اک سے کہیں، قافلے میں چلو