اللہ اللہ اللہ اللہ
قلب کو اُس کی رویت کی ہے آرزو
جس کا جلوہ ہے عالم میں ہر چار سو
بلکہ خود نفس میں ہے وہ سُبْحٰنہٗ
عرش پر ہے مگر عرش کو جستجو
اللہ اللہ اللہ اللہ
عرش و فرش و زمان و جہت اے خدا
جس طرف دیکھتا ہوں ہے جلوہ ترا
ذرے ذرے کی آنکھوں میں تو ہی ضیا
قطرے قطرے کی تو ہی تو ہے آبرو
اللہ اللہ اللہ اللہ
تو کسی جا نہیں اور ہر جا ہے تو
تو منزہ مکاں سے مبرّا زِ سُو
علم و قدرت سے ہر جاہے تو گو بگو
تیرے جلوے ہیں ہر ہر جگہ اے عفو