سحابِ رحمت باری ہے بارہویں تاریخ
کرم کا چشمہ جاری ہے بارہویں تاریخ
ہمیں تو جان سے پیاری ہے بارہویں تاریخ
عدو کے دل کو کٹاری ہے بارہویں تاریخ
اسی نے موسمِ گل کو کیا ہے موسمِ گل
بہارِ فصلِ بہاری ہے بارہویں تاریخ
بنی ہے سرمۂ چشمِ بصیرت و ایماں
اُٹھی جو گردِ سواری ہے بارہویں تاریخ
ہزار عید ہوں ایک ایک لحظہ پر قرباں
خوشی دلوں پہ وہ طاری ہے بارہویں تاریخ
فلک پہ عرشِ بریں کا گماں ہوتا ہے
زمینِ خُلد کی کیاری ہے بارہویں تاریخ
تمام ہو گئی میلادِ انبیا کی خوشی
ہمیشہ اب تری باری ہے بارہویں تاریخ
قبر میں خوب کام آتی ہے
بیکسوں کی ہے یارِ غار درود
انہیں کس کی درود کی پروا
بھیجے جب ان کا کردگار درود
ہے کرم ہی کرم کہ سنتے ہیں
آپ خوش ہو کے بار بار درود
جان نکلے تو اس طرح نکلے
تجھ پر اے غمزدوں کے یار درود
دل میں جلوے بسے ہوئے تیرے
لب سے جاری ہو بار بار درود
اے حسنؔ خارِ غم کو دل سے نکال
غمزدوں کی ہے غمگسار درود