Home/Mufti Ahmad Yar Khan Naeemi/Shahzadi-e-Konain Ki Zindagi-e-Pak

Shahzadi-e-Konain Ki Zindagi-e-Pak

Written by Mufti Ahmad Yar Khan Naeemi

100%
آئیں جب خاتون جنت اپنے گھر پڑ گئے سب کام ان کی ذات پر کام سے کپڑے بھی کالے پڑ گئے ہاتھ میں چکی سے چھالے پڑ گئے دی خبر زہرا کو اَسَدُ اللہ نے بانٹے ہیں قیدی رَسُوْلُ اللہ نے ایک لونڈی بھی اگر ہم کو ملے اس مصیبت سے تمہیں راحت ملے سن کے زہرا آئیں صدیقہ کے گھر تاکہ دیکھیں ہاتھ کے چھالے پدر پر نہ تھے دولت کدہ میں شاہِ دیں والدہ سے عرض کر کے آگئیں گھر میں جب آئے حبیبِ کبریا والدہ نے ماجرا سارا کہا فاطمہ چھالے دکھانے آئی تھیں گھر کی تکلیفیں سنانے آئی تھیں آپ کو گھر میں نہ پایا شاہِ دیں مجھ سے سب دکھ اپنا کہہ گئیں ایک خادم آپ اگر ان کو بھی دیں چکی اور چولہے کے وہ دکھ سے بچیں سن لیا سب کچھ رسولِ پاک نے کچھ نہ فرمایا شہِ لولاک نے شب کو آئے مصطفٰے زہرا کے گھر اور کہا دختر سے اے جانِ پدر ہیں یہ خادم ان یتیموں کے لیے باپ جن کے جنگ میں مارے گئے تم پہ سایہ ہے رسول اللہ کا آسرا رکھو فقط اللہ کا ہم تمہیں تسبیح اک ایسی بتائیں آپ جس سے خادموں کو بھول جائیں اوّلاً سُبْحَانَ ۳۳ بار ہو اور پھر الْحَمْدُ اتنی ہی پڑھو اور ۳۴ بار ہو تکبیر بھی تاکہ ۱۰۰ ہو جائیں یہ مل کر سبھی پڑھ لیا کرنا اسے ہر صبح و شام وِرْد میں رکھنا اسے اپنے مُدام خُلد کی مختار راضی ہو گئیں سن کے یہ گفتار خوش خوش ہو گئیں سالکؔ ان کی راہ جو کوئی چلے دین و دنیا کی مصیبت سے بچے مری بگڑی ہوئی حالت بنا دو مری سوئی ہوئی قسمت جگا دو تمہارے سینکڑوں ہم سے گدا ہیں ہمارے آپ ہی اک آسرا ہیں کھلائیں نعمتیں مجھ بے ہنر کو دیا لے آرام مجھ گندے بشر کو نہیں ہے ساتھ میرے کوئی توشہ کٹھن منزل تمہارا ہے بھروسہ کھلیں جب روزِ محشر میرے دفتر رہے پردہ مرا محبوبِ داور میں بے زر، بے ہنر، بے پر ہوں سالک مگر اُن کا ہوں وہ ہیں میرے مالک