شکریہ آپ کا سلطانِ مدینے والے
مجھ سا عاصی بھی ہے مہمانِ مدینے والے
مجھ کمینے کو مدینے میں بلایا تم نے
ہے یہ احسان پہ احسان مدینے والے
زائرِ قبرِ منوّر کی شفاعت ہوگی
ہے یہی آپ کا فرمان مدینے والے
میں بھی تو زائرِ روضہ ہوں رسولِ عربی!
مجھ کو مت بھولنا سلطانِ مدینے والے
دولتِ عشق سے آقا مری جھولی بھر دو
بس یہی ہو مرا سامان مدینے والے
آپ کے عشق میں اے کاش کہ روتے روتے
یہ نکل جائے مری جان مدینے والے
تیرے در پر تو عدو کو بھی اماں ملتی ہے
میں تری شان کے قربان مدینے والے
اپنے قدموں سے خدا را نہ جدا کیجئے گا
ہو گنہگار پہ احسان مدینے والے
آپ بھوکے رہیں اور پیٹ پہ پتھر باندھیں
نعمتوں کے دیں ہمیں خوان مدینے والے
حشر میں تم مرے عیبوں کو چھپائے رکھنا
ہوں گناہوں پہ پشیمان مدینے والے
میں مدینے کی گلی کا کوئی کتا ہوتا
کاش! ہوتا نہ میں انسان مدینے والے
مجھ کو دیوانہ مدینے کا بنالو آقا
بس یہی ہے مرا ارمان مدینے والے
اک جھلک چہرۂ انور کی دکھا دو اب تو
وقتِ رخصت ہے چلی جان مدینے والے
اس گنہگار کو دامن میں چھپا لو آقا!
یہ بیچارہ ہے پریشان مدینے والے
کاش! عطارؔ ہو آزاد غمِ دنیا سے
بس تمہارا ہی رہے دھیان مدینے والے