سنت ہے سفر دین کی تبلیغ کی خاطر
ملتا ہے ہمیں درس یہ اسفارِ نبی سے
مستانہ مدینے میں خدا ایسا بنادے
ٹکرا کے میں دم توڑ دوں دیوانِ نبی سے
صدقے میں مرے غوث کے ہو دُور اندھیرا
تربت ہو منوّر مری انوارِ نبی سے
جب قبر میں آئیں گے تو قدموں میں گروں گا
خوب آنکھیں ملوں گا میں تو پیزارِ نبی سے
عطّار ہے ایماں کی حفاظت کا سوالی
خالی نہیں جائے گا یہ دربارِ نبی سے