طیبہ میں اَب تو مُجھ کو دو گَز زمین دیدو
کب تک پھروں میں دَر دَر سرکار مارا مارا
دے دو بقیع دے دو، مجھ کو بقیع دے دو
کردو سُوال پورا پیارے نبی خُدارا
ہیں مُصطفیٰ مددگار اے دُشمنو خبردار!
یہ مت سمجھنا حامی کوئی نہیں ہمارا
ہے دُشمنوں نے گھیرا لِلّٰہ کوئی پھیرا
یامُصطفیٰ خُدارا اَب آکے دو سہارا
کردے عُدو کو غارت، حاسد کو دے ہدایت
پوری ہو قلبِ مُضطر کی عرضِ کردگارا
ظالم ڈرا رہے ہیں، آنکھیں دکھا رہے ہیں
آقا! دو جلد آکر عطار کو سہارا