Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Taranay Mustafa ke jhoom kar parhta hua niklay

Taranay Mustafa ke jhoom kar parhta hua niklay

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
ترانے مصطفٰے کے جھوم کر پڑھتا ہوا نکلے یوں حج کو 'چل مدینہ' کا وطن سے قافلہ نکلے نظر جب سبز گنبد پر پڑے غش کھا کے گر جاؤں ترے قدموں میں جانِ مضطرب یا مصطفٰے نکلے اگر میزان پہ پیشی ہو گئی تو ہائے! بربادی! گناہوں کے سوا کیا میرے نامے میں بھلا نکلے کرم سے اُس گھڑی سرکار! پردہ آپ رکھ لینا سرِ محشر مرے عیبوں کا جس دم تذکرہ نکلے نظر آئیں جوں ہی سرکارِ محشر میں مرے لب سے یہ نعرہ 'یارسول اللہ' کا بے ساختہ نکلے اگرچہ دولتِ دنیا مری سب چھین لی جائے مرے دل سے نہ ہرگز یانبی تیری ولا نکلے پڑوسی خُلد میں یارب! بنادے اپنے پیارے کا یہی آرزو میری یہی دل سے دعا نکلے تجھے ہرگز گوارا ہو نہیں سکتا کہ محشر میں جہنّم کی طرف روتا ہوا تیرا گدا نکلے رسولِ پاک سے میرا سلامِ شوق کہہ دینا قریبِ گنبدِ خضرا تُو جب بادِ صبا نکلے تلاطم خیز موجیں ہیں تھپیڑوں پر تھپیڑے ہیں مری نیا بھنور سے اب سلامت ناخدا نکلے الٰہی موت آئے گنبدِ خضرا کے سائے میں مدینے میں جنازہ دھوم سے عطّار کا نکلے