ترے در سے منگتوں کا گزارا یا محمد شاہ
یہ سُن کر میں نے بھی دامن پسارا یا محمد شاہ
مری قسمت کا چمکا دو ستارہ یا محمد شاہ
دکھا دو اپنا چہرہ پیارا پیارا یا محمد شاہ
گناہوں کے مَرَض نے نیم جاں ہے کر دیا مجھ کو
تمہیں آکر کرو اب کوئی چارہ یا محمد شاہ
غمِ شاہِ مدینہ مجھ کو تم ایسا عطا کر دو
جگر ٹکڑے ہو دل بھی پارہ پارہ یا محمد شاہ
ہوئی جاتی ہے اُجڑ اب مری اُمید کی کھیتی
بھرن برسا دو رَحمت کی خدایا محمد شاہ
مرے دولہا مرے اُجڑے گلستاں میں بہار آئے
خزاں کا رُخ پھرا دو اب خدارا یا محمد شاہ
مدینے کا بنا دو ایسا دیوانہ مجھے دولہا
پھروں دیوانگی میں مارا مارا یا محمد شاہ
گرجتے بادلوں کا شور چلتی آندھیوں کا زور
لرزتا ہے کلیجا دو سہارا یا محمد شاہ
مری کشتی بھنور میں پھنس گئی ہے ہائے بربادی
میں ڈوبا تم بچا لو اب خدارا یا محمد شاہ
بچالو دشمنوں کے وار سے للہ میں نے ہے
بڑی امید سے تم کو پکارا یا محمد شاہ
شہات خیرات لینے کو سلاطین زمانہ نے
ترے دربار میں دامن پسارا یا محمد شاہ
سدھارو میرے دولہا مجھ نکمے اور بگڑے کو
نہ جانے تم نے کتنوں کو سدھارا یا محمد شاہ
خدا کے خوف سے روئے نبی کے عشق میں روئے
عطا کر دو وہ چشمِ تر خدارا یا محمد شاہ
اگر چہ لاکھ پاپیا ہے مگر عطار کس کا ہے
تمہارا ہے تمہارا ہے تمہارا یا محمد شاہ