تیری ذات میں جو فنا ہوا وہ فنا سے نہ عدد بنا
جو اسے مٹائے وہ خود مٹے ، وہ ہے باقی اس کو فنا نہیں
دو جہاں میں سب پہ ہیں وہ عیاں دو جہاں پھر ان سے ہوں کیوں نہاں
وہ کسی سے جب نہیں چھپے تو کوئی بھی ان سے چھپا نہیں
ہر اک ان سے ہے وہ ہر اک میں ہیں وہ ہیں ایک علمِ حساب کے
بنے دو جہاں کی وہی بنا وہ نہیں جو ان سے بنا نہیں
کرو لطف مجھ پہ یہ خسرا کہ چھڑا دو غیر کا آسرا
نہ تکوں کسی کو تیرے سوا کہ کسی سے میرا بھلا نہیں
کوئی تجھ سے نیچ کے کہاں رہے تیرا ملک چھوڑ کہاں بسے
تو حبیبِ رب تیری ملک سب جہاں تو نہ ہو کوئی جا نہیں
یہ تمہارا سالکِ بے نوا مرضِ گنہ میں مبتلا
تم ہی اس برے کو کرو بھلا کہ کوئی تمہارے سوا نہیں