تم ہو حسرت نکالنے والے
نامرادوں کے پالنے والے
میرے دشمن کو غم ہو بگڑی کا
آپ ہیں جب سنبھالنے والے
تم سے منہ مانگی آس ملتی ہے
اور ہوتے ہیں ٹالنے والے
لبِ جاں بخش سے جلا دل کو
جان مُردے میں ڈالنے والے
دستِ اقدس بجھا دے پیاس میری
میرے چشمے اُبالنے والے
ہیں ترے آستاں کے خاک نشیں
تخت پر خاک ڈالنے والے
روزِ محشر بنا دے بات مری
ڈھلی بگڑی سنبھالنے والے
بھیک دے بھیک اپنے منگتا کو
اے غریبوں کے پالنے والے
خَتم کر دی ہے اُن پہ مَوزونی
واہ سانچے میں ڈھالنے والے
ان کا بچپن بھی ہے جہاں پرور
کہ وہ جب تھے پالنے والے
پار کر ناؤ ہم غریبوں کی
ڈوبتوں کو نکالنے والے
خاکِ طیبہ میں بے نشاں ہو جا
ارے آؤ نام اُچھالنے والے
کام کے ہوں کہ ہم ٹھکے ہوں
وہ سبھی کے ہیں پالنے والے
زنگ سے پاک صاف کر دل کو
اندھے شیشے اُجالنے والے
خارِ غم کا حَسَن کو کھٹکا ہے
دل سے کانٹا نکالنے والے
نَہ اَبھی عرصہِ محشر نہ حسابِ اُمت
آج ہی سے ہے کمر بستہ حمایت تیری
تو کچھ ایسا ہے کہ محشر کی مصیبت والے
درد دُکھ بھول گئے دیکھ کے صورت تیری
ٹوبیاں تھام کے گر عرش بریں پر دیکھیں
اونچے اونچوں کو نظر آئے نہ رفعت تیری
حُسن ہے جس کا نمک خوار وہ عالَم تیرا
جس کو اللہ کرے پیار وہ صورت تیری
دونوں عالَم کے سب ارمان نکالے تُو نے
نکلی اِس شان کرم پر بھی نہ حسرت تیری
چین پائیں گے تڑپتے ہوئے دل محشر میں
غم کسے یاد رہے دیکھ کے صورت تیری
ہم نے مانا کہ گناہوں کی نہیں حد لیکن
تُو ہے اُن کا تو حُسنِ تیرا ہے جنت تیری