Home/Imam Ahmad Raza Khan Qadri/Wasf-e-Rukh Un Ka Kya Karte Hain Sharh-e-Wadduha Karte Hain

وصفِ رخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرح والضحیٰ کرتے ہیں

Written by Imam Ahmad Raza Khan Qadri

100%
وصفِ رُخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرح والضحیٰ کرتے ہیں اُن کی ہم مَدح و ثنا کرتے ہیں جن کو محمود کہا کرتے ہیں ماہِ گشتہ کی صورت دیکھو کانپ کر مہر کی رَجعت دیکھو مصطفےٰ پیارے کی قدرت دیکھو کیسے اعجاز ہوا کرتے ہیں تُو ہے خورشیدِ رسالت پیارے پُھوپ گئے تیری ضیا میں تارے انبیا اور ہیں سب مہ پارے تجھ سے ہی نُور لیا کرتے ہیں اے بلا بے خِرَدِ کُفار رکھتے ہیں ایسے کے حق میں انکار کہ گواہی ہو گر اُس کو درکار بے زباں بول اُٹھا کرتے ہیں اپنے مولیٰ کی ہے بس شانِ عظیم جانور بھی کریں جن کی تعظیم سنگ کرتے ہیں ادب سے تسلیم پیڑ سجدے میں گِرا کرتے ہیں رفعتِ ذکر ہے تیرا حصہ دونوں عالم میں ہے تیرا چرچا مرغِ فردوس پسِ احمدِ خدا تیری ہی مَدح و ثنا کرتے ہیں انگلیاں پائیں وہ پیاری پیاری جن سے دریائے کرم ہیں جاری جوش پر آتی ہے جب غم خواری تشنہ سیراب ہوا کرتے ہیں ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد اسی در پر شترانِ ناشاد گلہ رنج و عِنا کرتے ہیں آستیں رحمتِ عالم الٹے کمرِ پاک پہ دامن باندھے گرنے والوں کو چہ دوزخ سے صاف الگ کھینچ لیا کرتے ہیں جب صبا آتی ہے طیبہ سے اِدھر کھلکھلا پڑتی ہیں کلیاں یکسر پھول جامہ سے نکل کر باہر رُخِ رنگیں کی ثنا کرتے ہیں تُو ہے وہ بادشاہ کون و مکاں کہ ملکِ ہفت فلک کے ہر آں تیرے مولیٰ سے شہِ عرشِ ایواں تیری دولت کی دُعا کرتے ہیں جس کے جلوے سے اُحد ہے تاباں معدنِ نور ہے اُس کا داماں ہم بھی اُس چاند پہ ہو کر قرباں دلِ سنگیں کی چلا کرتے ہیں کیوں نہ زیبا ہو تجھے تا جوری تیرے ہی دم کی ہے سب جلوہ گری ملک و جن و بشر و حور و پری سب تجھ پہ فدا کرتے ہیں ٹوٹ پڑتی ہیں بلائیں جن پر جن کو ملتا نہیں کوئی یاور ہر طرف سے وہ پُر اَرمان پھر اُن کے دامن میں چھپا کرتے ہیں لب پر آ جاتا ہے جب نامِ جناب مُنہ میں گھل جاتا ہے شہدِ نایاب وجد میں ہو کے ہم اے جاں بیتاب اپنے لب چُوم لیا کرتے ہیں لب پہ کس مُنہ سے غمِ الفت لائیں کیا بلا دل ہے الم جس کا سنائیں ہم تو اُن کے کفِ پا پر مٹ جائیں اُن کے در پر جو مٹا کرتے ہیں اپنے دل کا ہے انہیں سے آرام سونے ہیں اپنے انہیں کو سب کام لگی ہے کہ اب اس در کے غلام چارہِ دردِ رِضا کرتے ہیں