یا غوث! بلاؤ مجھے بغداد بلاؤ
بغداد بلا کر مجھے جلوہ بھی دکھاؤ
دنیا کی مَحَبَّت سے مری جان چھڑاؤ
دیوانہ مجھے شاہِ مدینہ کا بناؤ
چمکا دو ستارہ مری تقدیر کا مُرشِد!
مدفن کو مدینے میں جگہ مجھ کو دلاؤ
دُنیا مری منجدھار میں سرکار! پھنسی ہے
امداد کو آؤ! مری امداد کو آؤ
حسنین کے صدقے ہوں مری مشکلیں آساں
آفات و بَلیّات سے یا غوث! بچاؤ
یا پیر! میں عصیاں کے تلاطم میں پھنسا ہوں
لِلّٰہ گناہوں کی تباہی سے بچاؤ
اچھوں کے خریدار تو ہر جا پہ ہیں مُرشِد!
بدکار کہاں جائیں جو تم بھی نہ نبھاؤ
احکامِ شریعت رہیں ملحوظ ہمیشہ
مُرشد! مجھے سُنّت کا بھی پابند بناؤ
عطؔار جہنّم سے بہت خوف زدہ ہے
یا غوث! اسے دامنِ رَحمت میں چھپاؤ