یانبی! بس مدینے کا غم چاہیے، کچھ نہیں اور رب کی قسم چاہیے
میرا سینہ مدینہ بنا دیجیے، چاکِ قلب و جگر چشمِ نم چاہیے
بس مدینے کی یادوں میں کھویا رہوں، فکر ایسی شہِ محترم چاہیے
یاد میں تیری روتا تڑپتا رہوں، ایسا غم تاجدارِ حرم چاہیے
تاجِ شاہی نہ دو، بادشاہی نہ دو، بس تمہاری نگاہِ کرم چاہیے
میرے جینے کا سامان ہے بس یہی، تیرا لطف و کرم دم بدم چاہیے
آتشِ شوق آقا بھڑکتی رہے، مجھ کو غم یانبی تیرا غم چاہیے
جاں بہ لب کے سرہانے اب آجائیے، جامِ دیدارِ شاہِ حرم چاہیے
تیرے قدموں میں موت اے حبیبِ خدا! اے شہنشاہِ عرب و عجم چاہیے
دیدِ آقا بقیع مبارک مجھے، کچھ نہیں اور شہِ محترم چاہیے
مغفرت کی تمہارے کرم سے مجھے، اب سند یا شفیعِ اُمم چاہیے
سارے دیوانے آقا مدینے چلیں، اِذنِ طیبہ کا شاہِ اُمم چاہیے
تیرا سرکار ہوں گرچہ بدکار ہوں، تیری رحمت مجھے ہر قدم چاہیے
چھوڑیں عادت بد بھائیو! موت کی، یاد ہر آن اور دم بدم چاہیے
جو بھی سرکار پڑھ لے ہمارا کلام، وہ تڑپ اٹھے ایسا قلم چاہیے
گر وہ فرمائیں عطار مانگو بھلا!
میں کہوں گا: ”مدینے کا غم چاہیے“