Home/Muhammad Ilyas Attar Qadri/Yad-e-Shah-e-Batha mein jo ashk bahate hain

یادِ شہِ بطحا میں جو اشک بہاتے ہیں

Written by Muhammad Ilyas Attar Qadri

100%
یادِ شہِ بطحا میں جو اشک بہاتے ہیں گھر بیٹھے طیبہ کا وہ لُطف اُٹھاتے ہیں جو یادِ مدینہ کو سینوں میں بساتے ہیں جینے کا مزہ ایسے عُشّاق ہی پاتے ہیں کس پیار سے اُمّت کے وہ ناز اُٹھاتے ہیں عِصیاں کو غلاموں کے اشکوں سے مٹاتے ہیں وہ اپنے غلاموں کو دوزخ سے بچاتے ہیں اللہ کی رَحمت سے جنّت میں بساتے ہیں سرکار کھلاتے ہیں سرکار پلاتے ہیں سلطان و گدا سب کو سرکار نبھاتے ہیں روتے ہیں تڑپتے ہیں یہ آپ کے دیوانے سرکار مدینے کو پھر قافلے جاتے ہیں پھنسی ہوئی موجوں میں جب اُن کو پکارا ہے طوفان سے کشتی کو وہ پار لگاتے ہیں جتنے بھی ہیں دیوانے ان سب کو بلالیجیے ارمان غریبوں کو طیبہ کے رُلاتے ہیں یہ آپ کی مرضی ہے جن پر بھی کرم کردیں جنّت کی سند دینے روضے پہ بُلاتے ہیں وہ حشر کے میداں میں چھپائیں گے ہم سب کے یہاں پر بھی جو عیب جو عیب چھپاتے ہیں غم مُجھ کو مدینے کا سرکار عطا کردو! آزارِ زمانے کے بیکار رُلاتے ہیں قُربان! سرِ محشر ہم پیاس کے ماروں کو بھر بھر کے وہ کوثر کے کیا جام پلاتے ہیں عرصہ ہوا اے آقا! طیبہ سے جُدائی کو عطار کو کب جانا! پھر در پہ بُلاتے ہیں