یہ اکرام ہے مصطفےٰ پر خدا کا
کہ سب کچھ خدا کا ہوا مصطفےٰ کا
یہ بیٹھا ہے سکہ تمہاری عطا کا
کبھی ہاتھ اُٹھنے نہ پایا گدا کا
چمکتہ ہوا چاند غارِ حرا کا
اُجالا ہوا بُرجِ عرشِ خدا کا
لَحَد میں عمل ہو نہ دیو بلا کا
جو تعویز میں نقش ہو نقشِ پا کا
جو بندہ خدا کا وہ بندہ تمہارا
جو بندہ تمہارا وہ بندہ خدا کا
مرے گیسوؤں والے تیرے صدقے
کہ سر پر ہجومِ بلا ہے بلا کا
ترے زیرِ پا مسندِ مُلکِ یزداں
ترے فرق پر تاج مُلکِ خدا کا
سہارا دیا جب مرے ناخدا نے
ہوئی ناؤ سیدھی پھرا رُخ ہوا کا
کیا ایسا قادر و قدر نے
کہ قدرت میں ہے پھیر دینا قضا کا
اگر زیرِ دیوارِ سرکار بیٹھوں
مرے سر پہ سایہ ہو فضلِ خدا کا
ادب سے لیا تاجِ شاہی نے سر پر
یہ پایا ہے سرکار کے نقشِ پا کا
خدا کرنا ہوتا جو تحتِ مشیئت
خدا ہو کر آتا یہ بندہ خدا کا
آزاں کیا جہاں دیکھو ایمان والو
پسِ ذکرِ حق ذکر ہے مصطفےٰ کا
کہ پہلے زباں حمد سے پاک ہو لے
تو پھر نام لے وہ حبیبِ خدا کا
یہ ہے تیرے ایمائے ابرو کا صدقہ
ہدف ہے اثر اپنے تیرِ دعا کا
اے مہرِ کرم تیری تجلی کی ادا نے
ذرّوں کو بلائے شبِ ہجراں سے نکالا
صدقے ترے اے مردِ نِک دیدہ یعقوب
یوسف کو تری چاہ نے کنعاں سے نکالا
ہم ڈوبنے ہی کو تھے کہ آقا کی مدد نے
گرداب سے کھینچا ہمیں طوفاں سے نکالا
اُمت کے کلیجہ کی خلش تم نے مٹائی
ٹوٹے ہوئے نشتر کو رگِ جاں سے نکالا
ان ہاتھوں کے قربان کہ ان ہاتھوں سے تم نے
خارِ رہِ غم پائے غریباں سے نکالا
آرمان زدوں کی ہیں تمنائیں بھی پیاری
آرمان نکالا تو کس آرمان سے نکالا
یہ گردن پُر نور کا پھیلا ہے اُجالا
یا صبح نے سر اُن کے گریباں سے نکالا
گلزارِ براہیم کیا نار کو جس نے
اس نے ہی ہمیں آتشِ سوزاں سے نکالا
دینی تھی جو عالم کے حسینوں کو ملاحت
تھوڑا سا نمک اُن کے نمکداں سے نکالا
قرآں کے حواشی پہ جلالین لکھی ہے
مضموں یہ خطِ عارضِ جاناں سے نکالا
قربان ہوا بندگی پر لطفِ رہائی
یوں بندہ بنا کر ہمیں زنداں سے نکالا
اے آہ مرے دل کی لگی اور نہ بجھتی
کیوں تو نے دھواں سینہ سوزاں سے نکالا
مدفن نہیں پھینک آئیں گے احباب گڑھے میں
تابوت اگر کوچۂ جاناں سے نکالا
کیوں شور ہے کیا حشر کا ہنگامہ بپا ہے
یا تم نے قدم گورِ غریباں سے نکالا
لاکھوں ترے صدقے میں کہیں گے دمِ محشر
زنداں سے نکالا ہمیں زنداں سے نکالا
جو بات لبِ حضرتِ عیسیٰ نے دکھائی
وہ کام یہاں جنبشِ داماں سے نکالا
منہ مانگی مرادوں سے بھری جیبِ دو عالم
جب دستِ کرم آپ نے داماں سے نکالا
کانٹا غمِ عقبٰی کا حسن اپنے جگر سے
امت نے خیالِ سرِ مژگاں سے نکالا