Home/Mufti Ahmad Yar Khan Naeemi/Zamanay Ne Zamanay Mein Sakhi Aisa Kahin Dekha

زمانے نے زمانے میں سخی ایسا کہیں دیکھا

Written by Mufti Ahmad Yar Khan Naeemi

100%
زمانے نے زمانے میں سخی ایسا کہیں دیکھا لبوں پر جس کے سائل نے نہیں آتے نہیں دیکھا مصیبت میں جو کام آئے گنہگاروں کو بخشائے وہ اک فخرِ رُسل محبوبِ رَبُّ الْعَالَمِیں دیکھا بنایا جس نے بگڑوں کو سنبھالا جس نے گرتوں کو وہ ہی حَلالِ مشکل رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیں دیکھا وہ ہادی جس نے دنیا کو خدا والا بنا ڈالا دلوں نے کو جس نے چمکایا عرب کا مہ جبیں دیکھا بسے جو فرش پر اور عرش تک اس کی حکومت ہو وہ سلطانِ جہاں طیبہ کا اک ناقہ نشیں دیکھا وہ آقا جو کہ خود کھائے کھجوریں اور غلاموں کو کھلائے نعمتیں دنیا کی کب ایسا کہیں دیکھا بھلا اے عالم سی شے مخفی رہے اس چشمِ حق بیں سے کہ جس نے خالقِ عالم کو بے شک بالیقیں دیکھا مسلمانی کا دعویٰ اور پھر توہینِ سرور کی زمانے نے زمانے بھر میں کب ایسا کہیں دیکھا ہو لب پر اُمتی جس کے کہیں جب انبیا نفسی دو عالم نے اسے سالکؔ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیں دیکھا (نوٹ) ١: اسلام سے پہلے مُلکِ عرب اخلاقی اور تمدنی حیثیت سے تمام دنیا سے زیادہ بگڑا ہوا تھا، وہاں کے باشندے انسانیت کھو چکے تھے، آقائے دو جہاں (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے صرف ۲۳ سال میں تمام مُلک کی حالت پلٹ دی، چوروں کو رہبر، بت پرستوں کو خدا پرست اور حیوانوں کو خدا بنا دیا۔ ۲: آسمان کا سورج صرف سامنے والی چیز کو چمکاتا ہے، مگر مدینہ کے سورج نے ہر طرف اور ہر زمانے کے لوگوں کو ہر طرح چمکایا۔ ۱: حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی سخاوت کا یہ عالم کہ ایک صحابی کے کھیت میں لمبی لکڑی پیدا ہوئی وہ سرکار کی خدمت میں لائے انعام میں ایک لپ بھر سونا عطا ہوا مگر اپنی زندگی پاک کا یہ حال کہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا فرماتی ہیں کہ ہمارے گھر میں دو دو ماہ تک آگ نہ جلتی تھی صرف پانی اور کھجوروں پر گزر تھی۔ ۲: غیبوں کی غیب ذاتِ الہی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السَّلام تمنائے دیدار فرماویں تو فرمایا جاوے: لَنْ تَرَانِی جب حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے رب ہی کو دیکھا تو عالم کیا مخفی رہے۔ ۳: دیوانِ سالک کے نسخوں میں یہ مصرع یوں ہے: ”زمانے..... زمانہ بھر میں کب ایسا کہیں دیکھا“، فنِ عروض کے اعتبار سے صحیح مصرع یوں ہوسکتا ہے: ”زمانے نے زمانہ بھر