آہ پورا مرے دل کا کبھی ارمان ہوگا
کبھی دل جلوہ گہِ سرورِ خوباں ہوگا
میرے دل پر جو کبھی جلوۂ جاناں ہوگا
لمعۂ نور مرے رُخ سے نمایاں ہوگا
جلوۂ مُصحفِ رُخ دل میں جو پنہاں ہوگا
پارے پارے میں مرے قلب کے قرآں ہوگا
چوندھ جائے گی تری آنکھ بھی مہرِ محشر
ان کے ذرّہ کو جو دیکھے گا پریشاں ہوگا
دیکھ مت دیکھ مجھے گرم نظر سے خاور
شوخیٔ چشم سے تو آپ پریشاں ہوگا
حُسن وہ پایا ہے خورشیدِ رسالت تُو نے
تیرے دیدار کا طالب مہِ کنعاں ہوگا
جلوہِ حُسنِ جہاں تاب کا کیا حال کہوں
آئینہ بھی تمہیں دیکھ کے حیراں ہوگا
کون پوچھے گا بھلا روزِ جزا وہ بھی مجھے
اُن کی رحمت کے سوا کوئی پُرساں ہوگا
چاکِ تقدیر کو کیا سوزنِ تدبیر سے
لاکھ وہ بخیہ کرے چاکِ گریباں ہوگا
مجھ کو دعوٰی نہیں عِصمت کا مگر بے موقع
عیب جوئی نہ کرے گا جو سُخن داں ہوگا
دلِ دشمن کے لیے تیغِ دو پیکر ہے سُخن
چشمِ حاسد کو مرا شعر نمک داں ہوگا
عمر ساری تو کٹی آہو میں اپنی نوری
کب مدینے کی طرف کوچ کا ساماں ہوگا