آئینہ مُنْفَعِل ترے جلوے کے سامنے
ساجد ہیں مہر و مہ ترے تلوے کے سامنے
جاری ہے حکم یہ کہ دو پارہ قمر ہوا
اُنگشتِ مُصطفیٰ کے اشارے کے سامنے
کیوں در بدر فقیر تمہارا کرے سوال
جب تم ہو بھیک مانگنے والے کے سامنے
یہ وہ کریم ہیں کہ جو مانگو وہی ملے
اسے سائل و چلو تو دعا لے کے سامنے
منگتا کی عرض شاہِ مدینہ قبول ہو
تربت بنی ہو آپ کے روضے کے سامنے