(یہ باقاعدہ نظم نہیں، فیضانِ سنت جلد اول کے باب ”فیضانِ رمضان“ کے جزو فیضانِ اعتکاف کی مختلف مدنی بہاروں“ وغیرہ کے آخر میں لکھے ہوئے اشعار کہیں کہیں ترمیم کے ساتھ یکجا کئے گئے ہیں)
آئیں گے سُنتیں جائیں گی شامتیں، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
تم سدھر جاؤ گے، پاؤ گے برکتیں، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
جلوۂ یار کی آرزو ہے اگر، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
بیٹھے آقا کریں گے کرم کی نظر، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
مَرَضِ عصیاں سے چھٹکارا چاہو اگر، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
آؤ آؤ اِدھر آؤ، جاؤ نہ اُدھر، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
چوٹ کھاجائے گا اک نہ اک روز دل، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
فَضلِ رب سے ہدایت بھی جائے گی مل، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
فَضلِ رب سے گناہوں کی کالک دُھلے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
نیکیوں کا تمھیں خوب جذبہ ملے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
گرچہ دل میں ہے فیشن کی اُلفت بھری، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
عُمرِ آیندہ گزرے گی سُنت بھری، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
بھائی گر چاہتے ہو نمازیں پڑھو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
نیکیوں میں تمنا ہے آگے بڑھوں، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
تم کو راحت کی نعمت اگر چاہئے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
بندگی کی بھی لذت اگر چاہئے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
موت فضل خدا سے ہو ایمان پر، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
رب کی رحمت سے جنت میں پاؤ گے گھر، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
رحمتیں لوٹنے کے لئے آؤ تم، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
سنتیں سیکھنے کے لئے آؤ تم، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
گر تمنا ہے آقا کے دیدار کی، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
ہوگی میٹھی نظر تم پہ سرکار کی، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
آؤ آ کر گناہوں سے توبہ کرو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
رحمتِ حق سے دامن تم آ کر بھرو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
ختم ہوگی شرارت کی عادت چلو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
دور ہوگی گناہوں کی شامت چلو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
بگڑے اخلاق سارے سنور جائیں گے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
بس مزہ کیا مزے کو مزے آئیں گے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
ولولہ دیں کی تبلیغ کا پاؤ گے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
فضلِ رب سے زمانے پہ چھا جاؤ گے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
حب دنیا سے دل پاک ہو جائیگا، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
جامِ عشقِ محمد بھی ہاتھ آئیگا، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
سنتیں کھانے کھانے کی تم جان لو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
مان لو بات اب تو مری مان لو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
لینے خیرات تم رحمتوں کی چلو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
لوٹنے برکتیں سنتوں کی چلو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
پیارے اسلامی بھائی چلے آؤ تم، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
خالی دامن مرادوں سے بھر جاؤ تم، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
میٹھے آقا کی اُلفت کا جذبہ ملے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
داڑھی رکھنے کی سنت کا جذبہ ملے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
ان شاء اللہ ہر کام ہوگا بھلا، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
دور ہوگی بفضل خدا ہر بلا، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
سیکھنے کو ملیں گی تمہیں سنتیں، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
لوٹ لو آ کر اللہ کی رحمتیں، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
گیت گانے کی عادت نکل جائیگی، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
بے جا بک بک کی خصلت بھی ٹل جائیگی، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
ساری فیشن کی مستی اتر جائے گی، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
زندگی سنتوں سے نکھر جائے گی، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
گر مدینے کا غم چشمِ نم چاہئے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
مدنی آقا کی نظرِ کرم چاہئے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
سنتیں سیکھ لو رحمتیں لوٹ لو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
دین کے علم کی برکتیں لوٹ لو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
تم گناہوں سے اپنے جو بیزار ہو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
تم پہ فضل خدا، لطفِ سرکار ہو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
ذکرِ کرنا خدا کا یہاں صبح و شام، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
پاؤ گے نعتِ محبوب کی دھوم دھام، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
کر کے ہمت مسلمانو آ جاؤ تم، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
اُخروی دولت آؤ کما جاؤ تم، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
درد ٹانگوں میں ہو، درد گھٹنوں میں ہو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
پیٹ میں درد ہو یا کہ ٹخنوں میں ہو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
سنتوں کی تم آ کر سوغات لو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
آؤ بٹتی ہے رحمت کی خیرات لو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
گورِ تیرہ کو تم جگمگانے چلو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
راحتیں روزِ محشر کی پانے چلو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
چھوٹ جائے گی فلموں ڈراموں کی لت، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
خوش خدا ہوگا بن جائیگی آخرت، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
تنگ دستی کا حل بھی نکل آئے گا، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
روزگار ان شاء اللہ مل جائے گا، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
عاشقانِ رسول آؤ دیں گے بیاں، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
دور ہوں گی عبادات کی خامیاں، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
باجماعت نمازوں کا جذبہ ملے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
دل کا پُرمردہ غنچہ خوشی سے کھلے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
سیکھنے زندگی کا قرینہ چلو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
دیکھنا ہے جو میٹھا مدینہ چلو، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
ان شاء اللہ بھائی سُدھر جاؤ گے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
مرضِ عصیاں سے چھٹکارا تم پاؤ گے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
دل میں بس جائیں آقا کے جلوے مُدام، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
دیکھو مکے مدینے کے تم صبح و شام، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
صُحبتِ بد میں رہنے کی عادت چھوٹے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
خصلتِ جُرم و عصیاں تمہاری مٹے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
آؤ عشقِ محمد کے پینے کو جام، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
مست ہو کر کرو تم مدنی کام، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
زندگی کا قرینہ ملے گا تمہیں، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
آؤ دردِ مدینہ ملے گا تمہیں، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
آؤ سنت کا فیضان پاؤ گے تم، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
ان شاء اللہ جنت میں جاؤ گے تم، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
تم کو تڑپا کے رکھ دے گو دردِ کمر، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
پاؤ گے تم سُکوں ہوگا ٹھنڈا جگر، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
رنگ رلیاں منانے کا چسکا مٹے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
رَقص کی محفلوں کی نُحُوست چھوٹے، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
ڈھول باجوں کو سننے سے باز آؤ تم، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
فلمی گانے نہ ہرگز کبھی گاؤ تم، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
چھوڑ دو چھوڑ دو بھائی رِزقِ حرام، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
آؤ کرنے لگو گے بہت نیک کام، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
فَضلِ رب سے ہو دیدارِ سلطانِ دیں، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
شادمانی سے جھومے گا قلبِ حزیں، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
مان بھی جاؤ عطارؔ کی التجا
دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
ہوگا راضی خدا خوش شہِ انبیاء، دینی ماحول میں کر لو تم اعتکاف