اب کرم یا مصطفٰے فرمائیے، اِذنِ طیبہ کا عطا فرمائیے
یا حبیبِ کبریا حج کا شرف، اب عطا اِک مرتبہ فرمائیے
حاضری کی اب سعادت پاؤں میں، کچھ کرم ایسا شہا فرمائیے
خواب میں آکر کچھ شیریں کلام، بیٹھ کر میٹھے مصطفٰے فرمائیے
جن پہ صدقے جائیں سب جنت کے پھول، اُن لبوں کو اب تو وا فرمائیے
یارسول اللہ میری مغفرت، ہو خدا سے یہ دُعا فرمائیے
استقامت دین پر ہم کو عطا، از پئے غوث و رضا فرمائیے
کب تلک تڑپیں اسیرانِ قفس، قیدِ غم سے اب رہا فرمائیے
آپ کی الفت میں ہو رونا نصیب، مجھ کو چشمِ نم عطا فرمائیے
دُور پیارے مصطفٰے رنج و بلا، از طفیلِ مرتضیٰ فرمائیے
آپ کے قدموں میں ہو جاؤں شہید، کچھ سبب ایسا شہا فرمائیے
مجھ کو للہ اِک چھلکتا ساقیا، جامِ کوثر کا عطا فرمائیے
اپنے عاصی کی شفاعت حشر میں، شافعِ روزِ جزا فرمائیے
مدنی بُرقع پہنیں سب بہنیں، کرم فاطمہ کا واسطہ فرمائیے
ماہِ میلاد آگیا گھر گھر پہ اب، نَصْب پرچم سب ہرا فرمائیے