افسوس! بہت دُور ہوں گلزارِ نبی سے
کاش آئے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے
الفت ہے مجھے گیسوئے خُمدارِ نبی سے
ابرو و پلک آنکھ سے رُخسارِ نبی سے
پیرہن و چادر سے عصا سے مَحَبَّت
نعلینِ شریفین سے دستارِ نبی سے
بُوصیری! مبارک ہو تمہیں بُوئے یَمانی
سوغات ملی خوب ہے دربارِ نبی سے
بیمار! نہ مایوس ہو تُو حُسنِ یقیں رکھ
دم جا کے کرالے کسی بیمارِ نبی سے
تُو خواب میں حسنین کے صدقے میں خدایا
فرما دے مُشَرَّف مجھے دیدارِ نبی سے