ایسا لگتا ہے مدینے جلد وہ بلوائیں گے
جائیں گے جا کر انہیں زخم دکھلائیں گے
وہ اگر چاہیں گے تو ایسی نظر فرمائیں گے
خوب روئیں گے بچھاڑوں پر بچھاڑیں کھائیں گے
خشک اشکِ آنکھیں ہیں دل بھی سخت ہے
آپ ہی چاہیں گے تو آقا ہمیں تڑپائیں گے
موت اب تو گنبدِ خضرا کے سائے میں ملے
کب تک آقا در بدر کی ٹھوکریں ہم کھائیں گے
اے خوشا! تقدیر سے گر ہم کو منظوری ملی
رکھ کے سر دہلیز پر سرکار کی مر جائیں گے
روتے روتے گر پڑیں گے ان کے قدموں میں وہاں
روزِ محشر شافعِ محشر نظر جب آئیں گے
خُلد میں ہوگا ہمارا داخلہ اس شان سے
یا رسول اللہ کا نعرہ لگاتے جائیں گے
حشر میں کیسے سنبھالوں گا میں اپنے آپ کو
آمرِ عطار! آ وہ جب وہاں فرمائیں گے
ہائے اب کی بار بھی عطار جو زندہ بچے
پھر مدینے سے کراچی روتے روتے آئیں گے