اللہ کو مانے جو محمد کو نہ مانے
لاریب وہ ناری ہوا انکارِ نبی سے
وہ نارِ جہنّم کا ہے حقدار یقیناً
ہے جس کو عداوت کسی بھی یارِ نبی سے
اے زائرِ طیبہ! یہ دعا کر مرے حق میں
مجھ کو بھی بلاوا ملے دربارِ نبی سے
دنیا کے نظاروں سے بھلا کیا ہو سُروکار
عُشّاق کو بس عشق ہے گلزارِ نبی سے
دیوانوں کے آنسو نہیں تھمتے دمِ رخصت
جب سُوئے وطن جاتے ہیں دربارِ نبی سے
جلووں سے خدایا مرا سینہ ہو مدینہ
آنکھیں بھی ہوں ٹھنڈی مری دیدارِ نبی سے