Home/Allama Hasan Raza Khan/Bagh-e-Jannat mein nirali chaman-arai hai

باغ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے

Written by Allama Hasan Raza Khan

100%
باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے کیا مدینہ پہ فدا ہو کہ بہار آئی ہے اُن کے گیسو نہیں رحمت کی گھٹا چھائی ہے اُن کے ابرو نہیں دو قبلوں کی یکجائی ہے سنگریزوں نے حیاتِ ابدی پائی ہے ناخنوں میں ترے اعجازِ مسیحائی ہے سرِ بالیں انہیں رحمت کی ادا لائی ہے حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے جانِ گفتار تو رفتار ہوئی رُوحِ رواں دَمِ قدم سے ترے اعجازِ مسیحائی ہے جس کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں حُسن و جمال اے حسیں تیری ادا اس کو پسند آئی ہے تیرے جلوؤں میں یہ عالم ہے کہ چشمِ عالم تابِ دیدار نہیں پھر بھی تماشائی ہے جب تری یاد میں دنیا سے گیا ہے کوئی جان لینے کو دلہن بن کے قضا آئی ہے سر سے پا تک تری صورت پہ تصدق ہے جمال اِس کو موزونیِ اعضا یہ پسند آئی ہے تیرے قدموں کا تبرک یدِ بیضائے کلیم تیرے ہاتھوں کا دیا فضلِ مسیحائی ہے دِردِ دل کس کو سناؤں میں تمہارے ہوتے بیکسوں کی اِسی سرکار میں سنوائی ہے آپ آئے تو منور ہوئیں اندھی آنکھیں آپ کی خاکِ قدم سُرمہِ بینائی ہے ناتوانی کا اَلَم ہم ضُعفا کو کیا ہو ہاتھ پکڑے ہوئے مولیٰ کی توانائی ہے جان دی تو نے مسیحا و مسیحائی کو تُو ہی تو جانِ مسیحا و مسیحائی ہے وطن اور اس کا تڑکا صدقے اس شام غریبی پر کہ نورِ رکنِ شامی روشِ صبحِ منور ہے ہوئے ایمان تازہ بوسہ رکنِ یمانی سے فدا ہو جاؤں یُمن و ایمنی کا پاک منظر ہے یہ زمزم اس لئے ہے جس لئے اس کو پئے کوئی اسی زمزم میں جنت ہے اسی زمزم میں کوثر ہے شفا کیوں کر نہ پائیں نیم جاں زہرِ معاصی کے کہ نظارہ عراقی رکن کا تریاقِ اکبر ہے صفائے قلب کے جلوے عیاں ہیں سعیِ مسعی سے یہاں کی بے قراری بھی سکونِ جاں مضطر ہے ہوا ہے پیر کا حج پیر نے جن سے شرف پایا انہیں کے فضل سے دن جمعہ کا ہر دن سے بہتر ہے نہیں کچھ جمعہ پر موقوف افضال و کرم اُن کے جو وہ مقبول فرما لیں تو ہر حج حجِ اکبر ہے حسن حج کر لیا کعبہ سے آنکھوں نے ضیا پائی چلو دیکھیں وہ بستی جس کا رستہ دل کے اندر ہے